رسائی کے لنکس

یہ ریلی اتوار کی شام کراچی پریس کلب کے سامنے نکالی گئی، جس میں مشرف کے حق میں نعرے بلند کیے گئے

سابق صدر پرویز مشرف گزشتہ روز اسلام آباد سے کراچی منتقل ہوئے۔ اتوار کے دِن اُن کے حامیوں نے اُن کے حق میں ایک ریلی نکالی۔

یہ ریلی اتوار کی شام کراچی پریس کلب کے باہر نکالی گئی، جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ وہ مشرف کی تصاویر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے، اور سابق صدر کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔

ریلی کے شرکا کے بقول، ’ہم مشرف کو کراچی آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں‘۔
شرکا نے مطالبہ کیا کہ ’پرویز مشرف سے متعلق تمام معاملات کو انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے جلد از جلد حل کیا جائے‘۔

گزشتہ روز کراچی آمد کے بعد مشرف اتوار کے روز سخت سیکورٹی کی تحویل میں اپنی صاحبزادی، عائلہ مشرف کے گھر پہنچے، جہاں، بتایا جاتا ہے کہ وہ اگلے چند دنوں تک قیام کریں گے۔

سابق صدر کے طبی معائنے کیلئے ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو ان کا مکمل طبی معائنے کے بعد، انھیں اسپتال منقل کرنے کا حتمی فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سابق صدر کا علاج زمزمہ میں موجود ان کی بیٹی کی رہائشگاہ پر ہی کیا جائے گا۔

مشرف کا کراچی سے رشتہ پرانا

سابق صدر پاکستان ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کا کراچی سے رشتہ پرانا ہے۔ مشرف نے ابتدائی تعلیم کراچی شہر میں حاصل کی اور بچپن کے دن بھی یہیں گزارے۔

وہ کئی ماہ تک اسلام آباد کے ایک اسپتال میں زیر علاج رہے؛ جنھیں علاج کے لیے کراچی کے ’پی این ایس اسپتال‘ منتقل کیا گیا ہے۔

وہ ایک برس کے بعد کراچی پہنچے ہیں۔ اس سے قبل وہ عام انتخابات سے پہلے کراچی آئے تھے۔

ادھر، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، خورشید شاہ نے مشرف کی کراچی آمد کو، ’ملک سے فرار ہونے کا پہلا مرحلہ‘ قرار دیا۔ بقول اُن کے، ’اگر وہ فرار ہوجاتے ہیں، تو اِس کا الزام حکومتِ سندھ پر آئے گا‘۔

بتایا جاتا ہے کہ پیر کے روز مشرف کا نام ’اِی سی ایل‘ سے نکالنے کیلئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہونے کا امکان ہے۔
XS
SM
MD
LG