رسائی کے لنکس

یوکرین: روس نواز باغی ریفرنڈم پر ڈٹ گئے


روس نواز باغیوں کا اجلاس

روس نواز باغیوں کا اجلاس

امریکہ کے نائب سیکرٹری خارجہ ولیم برنز کا کہنا ہے کہ روس یوکرین کے معاملے پر "ایک خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ راستے پر گامزن ہے"۔

مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں نے روس کے صدر ولادیمرپوٹن کی تجویز کر نظر انداز کرتے ہوئے اتوار کو ریفرنڈم کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یوکرین کے مشرقی شہر ڈونیٹسک میں باغیوں کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین میں روسی بولنے والی آبادی کے لیے درد دل رکھنے والی شخصیت مسٹر پوٹن کا احترام کرتے ہیں جنہوں نے اس معاملے کے لیے کوششیں بھی کیں، لیکن اعلان کردہ تاریخ پر ریفرنڈم کروانے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا۔

روس کے صدر پوٹن نے بدھ کے روز تجویز کیا تھا کہ یوکرین میں صورتحال کی بہتری لانے کی کوششوں کے لیے مشرقی علاقے کے لوگ ریفرنڈم کو فی الوقت ملتوی کر دیں۔

مشرقی یوکرین میں روسی بولنے والوں کی اکثریت ہے اور یہ لوگ بھی کرائمیا کی طرح ایک ریفرنڈم کے ذریعے روس کے ساتھ الحاق کے خواہش کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

ادھر کریملن کے ایک ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ مشرقی یوکرین کے لوگوں کی طرف سے صدر پوٹن کی تجویز کے برعکس فیصلے کا تجزیہ اور اس متعلق حقائق جاننے کی ضرورت ہے۔

دریں اثناء امریکہ کے نائب سیکرٹری خارجہ ولیم برنز کا کہنا ہے کہ روس یوکرین کے معاملے پر "ایک خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ راستے پر گامزن ہے"۔ ان کے بقول واشنگٹن اور اس کے اتحادی ماسکو پر دباؤ بڑھائیں گے تاوقتیکہ وہ اپنا راستہ تبدیل نہیں کرتا۔

جمعرات کو قازقستان کے صدر نذر سلطان نذر بائیوف سے استانہ میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں مسٹر برنز کا کہنا تھا کہ یوکرین میں صورتحال "انتہائی تباہ کن" تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ روس کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا لیکن اگر ماسکو نے "غیرذمہ دارانہ رویہ اپنائے رکھا تو ہم اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر" اس پر دباؤ ڈالے گا۔
XS
SM
MD
LG