رسائی کے لنکس

عوامی مقامات پر مذہبی اجتماعات سے گریز کرنے کی اپیل


عوامی مقامات پر مذہبی اجتماعات سے گریز کرنے کی اپیل

عوامی مقامات پر مذہبی اجتماعات سے گریز کرنے کی اپیل

حکا م نے حالیہ خودکش حملوں میں کالعدم مذہبی تنظیموں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بیشتر مذہبی تنظیمیں حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کے بعد نام بدل کر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے تمام مذہبی حلقو ں سے اپیل کی ہے کہ وہ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر عوامی مقامات پر اجتماعات منعقد کرنے سے گریز کریں۔ رحمن ملک نے یہ درخواست لاہور میں ایک روز قبل شیعہ برادری کے مذہبی جلوس پر ہونے والے خودکش حملوں کے بعد کی ۔

ان خودکش بم حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پینتیس تک پہنچ گئی ہے جب کہ زخمی ہونے والے کم از کم دو سو افراد میں سے بیشتر اب بھی شہر کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جہاں کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں رحمن ملک نے شیعہ برادری کو عسکریت پسندوں کے لیے ایک” آسان ہدف“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورت حال میں اس مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو بڑے جلسے جلوسوں سے گریز کرنا چاہیئے۔

حکا م نے حالیہ خودکش حملوں میں کالعدم مذہبی تنظیموں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بیشتر مذہبی تنظیمیں حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کے بعد نام بدل کر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عسکریت پسند مذہبی تنظیموں کو محض کالعدم قرار دے دینا مسئلہ کا حل نہیں ہے اور ان پابندیوں کاموثر اطلاق کیے بغیر اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم نے بھی حکومت سے کالعدم تنظیموں کے خلاف بھرپور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

حکام کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں ملوث ان انتہاپسند تنظیموں کا تعلق شمال مغربی قبائلی علاقوں میں سرگرم شدت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو قبائلی علاقے کرم میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد پر ہلاکت خیز حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے امریکہ کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے با ضابطہ اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب میں عبدالباسط کا کہنا تھا کہ اس امریکی فیصلے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

امریکہ نے ایک روز قبل تحریک طالبان پاکستان کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست ”بلیک لسٹ“ میں شامل کرکے اس کے تمام اثاثے منجمد کرنے اور اس کے تمام اراکین کے امریکہ سفر پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس تنظیم کے سربراہ حکیم الله محسود اور نائب سربراہ ولی الرحمٰن کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے امریکہ نے نقد انعام دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG