رسائی کے لنکس

مشتبہ شخص نے مشی گن میں مہلک حملوں کا اعتراف کر لیا: حکام


جیسن ڈالٹن

جیسن ڈالٹن

وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ 45 سالہ ٹیکسی ڈرائیور جیسن ڈالٹن نے پولیس تفتیش کے دوران فائرنگ کے مہلک واقعات کا اعتراف کیا جن میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ شمالی امریکہ کی ریاست مشی گن میں فائرنگ کے مہلک واقعات کے شبے میں گرفتار کیے گئے شخص نے ان حملوں کا اعتراف کر لیا ہے جن میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ 45 سالہ ٹیکسی ڈرائیور جیسن ڈالٹن نے پولیس تفتیش کے دوران اس کا اعتراف کیا اور اس کا پہلے جرائم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

جیسن ڈالٹن پر پیر کو قتل سے متعلق چھ جرائم اور حملے اور آتشیں اسلحے سے متعلق دس جرائم کی فرد جرم عائد کی گئی۔

پیر کو عدالت میں مختصر پیشی پر جج نے ڈالٹن کو ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کر دیا۔ جیسن نے اب تک باضابطہ طور پر عدالت میں اپنا مؤقف پیش نہیں کیا۔ اسے عدالت کی طرف سے ایک وکیل دیا جائے گا۔

تحقیق کار حملے کے محرکات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ بظاہر حملہ آور نے بغیر کسی منصوبے کے لوگوں کو نشانہ بنایا اور ان کا نہ تو حملہ آور کے ساتھ اور نہ آپس میں کوئی تعلق نظر آتا ہے۔

صدر براک اوباما نے اس حملے کے بعد وائٹ ہاؤس آنے والے گورنروں کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ اسلحے سے تشدد کو روکنے کے لیے ’’ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

حکام نے ہفتے کو ہونے والے حملوں کے بعد جیسن ڈالٹن کو اتوار کو مشی گن کے شہر کالامزو میں گرفتار کیا تھا۔ ان حملوں میں دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

جیسن ڈالٹن ٹیکسی سروس فراہم کرنے والی پرائیویٹ کمپنی 'اوبر' کے لیے کام کرتا ہے۔ کمپنی کے چیف سکیورٹی آفیسر جو سُلیوان نے ایک بیان میں کہا کہ اوبر اس بلاجواز تشدد پر نہایت افسردہ ہے اور اس نے تفتیش کاروں کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔

ڈالٹن کے ساتھ سفر کرنے والے ایک شخص میٹ میلن نے ایک مقامی ٹیلی وژن چینل کو بتایا کہ اس نے ہفتے کی دوپہر سڑک پر ٹیکسی روکی اور ایک کلومیٹر سے بھی کم سفر کے بعد ڈالٹن نے ٹیلی فون پر کسی سے بات کی اور فون بند کرنے کے بعد بے ترتیبی سے گاڑی چلانا شروع کر دی اور دوسری گاڑیوں سے ٹکراتا ہوا جاتا رہا اور جہاں رکنا تھا وہاں نہیں رکا۔

جب اس نے ٹیکسی روکی تو میٹ میلن کے بقول وہ فوراً ٹیکسی سے اترا اور پولیس کا اطلاع دی۔

حکام کا کہنا ہے کہ تشدد کا پہلا واقعہ ایک اپارٹمنٹ میں ہوا جہاں ایک خاتون اس وقت شدید زخمی ہو گئی جب اس پر متعدد بار گولیاں چلائی گئیں۔

اس کے کئی گھنٹوں کے بعد مسلح شخص نے ایک باپ اور بیٹے کو ہلاک کر دیا جو کاروں کے ایک شو روم میں گاڑیوں کو دیکھ رہے تھے۔

اس کے چند ہی منٹوں کے بعد ایک ریستوران کی پارکنگ میں پانچ افراد کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جن میں سے چار ہلاک ہو گئے۔

ایک چودہ سالہ لڑکی کو تشویشناک حالت میں استپال منتقل کیا گیا ہے جس کے بارے میں پہلے کہا گیا تھا کہ وہ ہلاک ہو گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG