رسائی کے لنکس

ہدایات میں اسکولوں کو باوٴنڈری وال 16 فٹ تک بلند کرنے، ان پر خاردار تار لگانے، داخلی دروازوں پر واک تھرو میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کرنے اور 15 دنوں تک کی ریکارڈرنگ محفوظ رکھنے والے سی سی ٹی وی کیمرے فٹ کرانے کا پابند بنایا ہے

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر 16 دسمبر کو ہونے والے دہشت گرد حملے کو ایک ماہ ہوگیا ہے۔ اس حملے کے بعد سے اب تک ملک بھر میں جتنے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، اُنہیں تاریخی طور پر سخت ترین کہا جانا چاہئے۔

پاکستان عشروں سے دہشت گردی کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔ لیکن، اس بار جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ سب سے سخت ہیں، یہاں تک کہ جن دہشت گردوں کی سزائے موت پر دس، دس سالوں سے عمل درآمد نہیں ہوا تھا وہ بھی اب تواتر کے ساتھ تختہ دار پر لٹکائے جارہے ہیں۔ جبکہ، اسکول پر حملے کے تناظر میں تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کو جس قدر سخت بنایا جا رہا ہے، وہ بھی تاریخی ہی ثابت ہوگا۔

نئی نسل بندوقوں کے سائے میں پڑھ کر جواں ہوگی۔۔!
عین ممکن ہے کہ یہ فقرا آپ نے پہلے بھی بہت بار سنا ہو، لیکن اس کی عملی شکل شاید آپ نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔ صرف ملک کے سب سے بڑے اور تجارتی شہر کراچی کے اسکولوں کی بات کریں تو یہاں اب کوئی اسکول ایسا نہیں ہوگا جہاں سیکورٹی انتظامات انتہائی سخت نہ ہوں۔ خاص کر بڑے اور نامور تعلیمی اداروں کا حال تو یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے انہیں انسانی قد سے ڈبل باوٴنڈری وال بنانے کی ہدایات کردی گئی ہیں اور سردیوں کی چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے ان پر عمل درآمد بھی ہوچکا ہے ،جبکہ سینکڑوں اسکول اس وقت بھی عمارت کی دیواریں اونچی کروانے میں مصروف ہیں۔

ضلع جنوبی۔۔سب سے ’حساس‘اور غیر محفوظ
سندھ کے محکمہٴپولیس نے ضلع جنوبی میں واقع اسکولوں کو سب سے زیادہ حساس اور غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ اس ضلع میں ڈیفنس، کلفٹن، صدر، لیاری، جمشید ٹاوٴن اور کیماڑی کے علاقے آتے ہیں۔

گوکہ ضلع بھر میں 30 پولیس تھانے قائم ہیں اس کے باوجود پولیس کو خدشہ ہے کہ ضلع میں سیکورٹی اداروں کے تحت چلنے والے نامور اسکولز اور مشنری اداروں کے تحت چلنے والے اسکول واقع ہیں۔ لہذا، یہ دہشت گردانہ حملوں کا آسان ٹارگٹ ہو سکتے ہیں، چنانچہ سب سے زیادہ اسی ضلع کے ہائی پروفائل اسکولز کو ڈسٹرکٹ پولیس چیف عبدالخالق شیخ کی جانب سے سخت سیکورٹی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

یہ ہدایات آٹھ صفحات پر مشتمل ہیں، جبکہ یہ سندھ ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیوئٹ انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے 6 جنوری کو جاری کی جانے والی ہدایات کے علاوہ ہیں۔

یہ ہیں غیر معمولی سیکورٹی اقدامات:
ڈسٹرکٹ پولیس چیف عبدالخالق شیخ نے اپنی ہدایات میں اسکولوں کو باوٴنڈری وال 16 فٹ تک بلند کرنے، ان پر خاردار تار لگانے، داخلی دروازوں پر واک تھرو میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کرنے اور 15دنوں تک کی ریکارڈرنگ محفوظ رکھنے والے سی سی ٹی وی کیمرے فٹ کرانے کا پابند بنایا ہے۔

یہی نہیں، بلکہ اسکول کے کونے کونے تک باآواز بلند اعلان پہنچانے کے لئے سینٹرلائز پبلک اناوٴنسمنٹ سسٹم، سیکورٹی حکام وکلاس رومز کے درمیان الارم لگانے، سیکورٹی گارڈز کو مطلوبہ جگہوں پر تعینات کرنے اور انہیں رابطے کے لئے واکی ٹاکیز فراہم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ہر اسکول کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اسکول یا تعلیمی اداروں کے لے لائحہ عمل سب ڈویژنل پولیس آفیسر اور متعلقہ ایس ایچ او کے پاس لازما جمع کرائے۔ اسکول کے تمام عملے اور ان کے خاندانی پس منظر سے متعلق تمام معلومات ملک کے خفیہ اداروں سے تصدق کرانا بھی اسکول انتظامیہ کی لازمی ذمے داری قرار دیا گیا ہے۔

اسکول ٹرانسپورٹس کی سیکورٹی بھی لازمی ہوگئی
سیکورٹی کی غرض سے محکمہ سندھ کے ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی تمام اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے ٹرانسپوٹرز، اسکول انتظامیہ، اسکولز ویلفیئر ایسوسی ایشنز اور ڈائریکٹر جنرل ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کو صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ میر ممتاز حسین جکھرانی اور سیکریٹری ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ طحہٰ احمد فاروقی کی جانب سے جاری کردہ طویل اور سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں۔

ان ہدایات کے مطابق، اسکول انتظامیہ کو اپنے تمام ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کے چال چلن سے متعلق معلومات کو پولیس سے تصدیق کرانا ہوگا۔ ان کا شناختی کارڈ اور لائسنس رکھنے کی ذمے داری بھی اسکول انتظامیہ کی ہی ہوگی۔

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اس حوالے سے فوری طور پر باقاعدہ ایک تشہیری مہم بھی شروع کردی ہے، تاکہ عوام بھی ان ہدایات سے آگاہ رہیں اور جو اسکول ابھی تک ان ہدایات پر عمل درآمد شروع نہیں کرا سکے ان پر والدین دباوٴ ڈال سکیں۔

XS
SM
MD
LG