رسائی کے لنکس

ملائیشیا میں ہزاروں افراد کا وزیراعظم کے خلاف مظاہرہ


وزیراعظم نجیب رزاق (فائل فوٹو)

وزیراعظم نجیب رزاق (فائل فوٹو)

وزیراعظم نجیب رزاق نے مظاہرین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملائیشیا کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش ہے۔

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہفتہ کو ہزاروں افراد وزیراعظم نجیب رزاق سے مستعفی ہونے کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر نکل آئے جب کہ حکام نے اس مظاہرے کو غیرقانونی اجتماع قرار دیا ہے۔

جولائی میں افشا ہونے والی ایک دستاویز میں وزیراعظم کو مبینہ طور پر ایک بدعنوانی کے معاملے میں ملوث ظاہر کیا گیا تھا جس پر وزیراعظم نے اپنے ایک نائب اور دیگر چار وزرا کو برطرف بھی کیا۔

ہفتہ کو ہونے والے مظاہرے میں لوگوں نے پیلی شرٹس پہن رکھی تھیں اور یہ لوگ شہر کے مختلف علاقوں سے مارچ کرتے ہوئے آزادی اسکوائر پہنچنا شروع ہوئے جہاں پیر کو ملائیشیا کے اٹھاونویں قومی دن کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

اس احتجاج کا اہتمام کرنے والے 'برسیہ' نامی اتحاد کا مطالبہ ہے کہ ملک میں دوبارہ انتخابات کروائے جائیں۔

حکام نے مظاہرے کے منتظمین کی ویب سائٹ کو بلاک کر دیا ہے اور اس کے نشان والی پیلی شرٹ پہنچنے پر پابندی بھی عائد کر دی ہے۔

پولیس کی بھاری نفری کو بھی شہر میں تعینات کیا گیا ہے جو آزادی اسکوائر کی طرف جانے والے راستوں کو بند کر رہی ہے کیونکہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ مظاہرین کے لیے ممنوع ہے۔

بعض مظاہرین کے کپڑے کے بستے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر درج ہے "میرے وزیراعظم نے مجھے شرمندہ کیا۔" بعض نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھتے تھے جن پر "ہم خاموش نہیں رہیں گے" تحریر ہے۔

وزیراعظم کا موقف ہے کہ یہ رقم مشرقی وسطیٰ کی طرف سے عطیے کے طور پر دی گئی تھی اور اسی بات کو لے کر آزادی اسکوائر کے قریب مظاہرین کے سامنے ایک مزاحیہ ادکار عربی لباس پہن کر وزیراعظم پر طنز کرتا نظر آیا۔

وزیراعظم نجیب رزاق نے مظاہرین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملائیشیا کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی برناما کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ "جو لوگ یہ پیلی شرٹ پہن رہے ہیں۔۔۔وہ ہماری نیک نامی کا خراب کرنا چاہتے ہیں، ملائشیا کے منہ پر کالک ملنا چاہتے ہیں۔"

XS
SM
MD
LG