رسائی کے لنکس

کشمیری مہاجرین کا مطالبات کے حل کے لیے احتجاجی دھرنا

  • روشن مغل

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ 25 برسوں سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے ماہانہ الاﺅنس میں دو سو فیصد اضافہ کیا جائے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سینکڑوں پناہ گزینوں نے اپنے مطالبات کے حصول کے لیے مظفرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔

ان لوگوں نے 1990 کی دہائی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی کی تحریک کے آغاز کے بعد وہاں سے نقل مکانی کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پناہ لی تھی۔

سینکڑوں افراد نے دارالحکومت مظفرآباد میں مستقل آباد کاری، حکومت کی طرف سے دیے جانے والے ماہانہ الاؤنس میں اضافے اور سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے حصول کے لیے گزشتہ پانچ روز سے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے ۔

دھرنے میں مظفرآباد کے گردو نواح میں قائم تیرہ کیمپوں میں مقیم مہاجرین اور ان کی فلاح وبہود کے لئے متحرک تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔

پاکستانی کشمیر کی سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کے عہدیداروں نے مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔

احتجاجی دھرنے کے ایک منتظم قاری بلال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہمارے مسائل حقیقی ہیں اور ہمارے حقوق آئینی ہیں، جن کے حصول کے لیے ہم نے دھرنا دیا ہے۔ اب تک حکومت کی طرف سے کوئی شخص ہمیں یہ امید نہیں دلا سکا کہ ہمارے گزارہ الاؤنس میں اضافہ ہو گا، ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ہمارے کوٹے کو یقینی بنایا جائے گا۔‘‘

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کے وزیر بحالیات عبدالماجد خان اور دھرنے میں شامل مظاہرین کے درمیان دو بار مذاکرات ہوئے ہیں، مگر قاری بلال کے بقول حکومتی نمائندوں کی طرف سے کسی لچک کا مظاہر نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہو گئے۔

مظاہرین کا عزم ہے کہ وہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ 25 برسوں سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے ماہانہ الاﺅنس میں دو سو فیصد اضافہ کیا جائے۔

پاکستانی کشمیر میں قائم سولہ مہاجر کیمپوں میں 35 ہزار افراد آباد ہیں جنھیں حکومت کی طرف سے فی فرد 1500 روپے ماہانہ گزارہ خرچ دیا جاتا ہے جس میں گزشتہ سات سال سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ 2005 کے زلزلے میں بے گھر ہو نے والے سینکڑوں خاندانوں کی مستقل آباد کاری کا بھی تاحال مناسب بندوبست نہیں ہو سکا۔

XS
SM
MD
LG