رسائی کے لنکس

مظاہرین نے حکومت کے اس فیصلے کی بھی مخالفت ہے کہ جس میں مڈل اور ہائی اسکولوں کو 2017ء کے آغاز سے صرف ریاست کی فراہم کردہ تاریخ کی درسی کتب پڑھانے کا کہا گیا ہے۔

جنوبی کوریا میں پولیس نے حکومت مخالف ایک بڑے مظاہرے میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد 51 افراد کو حراست میں لیا ہے جب کہ اتوار کو مزید افراد کو تحویل میں لینے کے لیے کارروائی کی گئی۔

ہفتہ کو حکام کے مطابق لگ بھگ 70 ہزار افراد نے دارالحکومت سیول کی سڑکوں پر مظاہرہ کیا اور وہ حکومت سے محنت کشوں کے لیے قوانین کے علاوہ ریاست کی منظور شدہ تاریخ کی درسی کتب میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مظاہرین مختلف سڑکوں سے ہوتے ہوئے سیول میں سٹی ہال کے سامنے جمع ہونا شروع ہوئے اور شام تک ان کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔

پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گولے اور پانی کی تیز دھار کا استعمال کیا۔

کوریا کے کسانوں کی ایک تنظیم کے جنرل سیکرٹری چو بیونگ اوک نے بتایا کہ پولیس کی طرف سے پھینکی گئی پانی کی تیز دھار سے ایک 69 سالہ کسان بائیک نام گی بری طرح زمین پر گرا اور اس کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ یہ معمر کسان اب بھی بے ہوش ہے اور اسپتال میں زیر علاج ہے۔

ایک وڈیو میں دکھایا گیا کہ لوگ بے حس و حرکت پڑے بائیک کو مظاہرے کی جگہ سے ہٹانے کے لیے تگ و دو کر رہے تھے اور پولیس مستقل ان پر پانی کی تیز دھار پھینک رہی تھی۔

صدر پارک گیون ہیئ کے ناقدین ان سے "کاروبار دوست محنت کش پالیسیوں" کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن میں ان کے بقول وہ پالیسیاں بھی شامل ہیں جن کے تحت اجرت کو کم رکھتے ہوئے کاروبار کو فائدہ پہنچانا اور کمپنیوں کے لیے اپنے کارکنوں کو آسانی سے فارغ کرنے کی پالیسیاں بھی شامل ہیں۔

مظاہرین نے حکومت کے اس فیصلے کی بھی مخالفت کی ہے کہ جس میں مڈل اور ہائی اسکولوں کو 2017ء کے آغاز سے صرف ریاست کی فراہم کردہ تاریخ کی درسی کتب پڑھانے کا کہا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مجودہ درسی تاریخی کتب میں شامل مواد کا جھکاؤ بائیں بازو کے نظریات کی طرف زیادہ ہے جب کہ ناقدین کا موقف ہے کہ حکومت دانستہ طور پر جنوبی کوریا کی تشکیل سے متعلق تاریخی حقائق کو مسخ کرنا چاہتی ہے۔

حکام کے بقول ہفتہ کو ہونے والے مظاہرے 2008ء کے بعد اس ملک میں کیے گئے سب سے بڑے مظاہرے تھے۔ اُس وقت ہزاروں افراد نے امریکہ سے گوشت کی مصنوعات درآمد کرنے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG