رسائی کے لنکس

ان مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے اس نئی قانون سازی پر رد ِ عمل کے لیے عوام کو باہر نکلنے کو کہا جس کی رُو سے مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یوکرین کے شہر کیو میں اتوار کے روز مظاہرین نے پولیس پر دھاوا بول دیا اور پارلیمنٹ کے راستے میں کھڑی بس کو اُلٹانے کی کوشش کی۔

حکومت مخالف اس مظاہرے میں تقریباً ایک لاکھ یوکرینیوں نے حصہ لیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

ان مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے اس نئی قانون سازی پر رد ِ عمل کے لیے عوام کو باہر نکلنے کو کہا جس کی رُو سے مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مظاہرین پولیس پر مختلف چیزیں پھیکنتے رہے اور پولیس کو اپنے دفاع کے لیے اپنی شیلڈز استعمال کرنا پڑیں۔ رات ڈھلنے کے ساتھ ہی بہت سے مظاہرین کی جانب سے پولیس پر حملے میں کمی دیکھنے میں آئی۔

اس برس کی سب سے بڑی اس ریلی کا پس منظر یوکرین کی پارلیمنٹ کی جانب سے گذشتہ ہفتے جلد بازی میں کی جانے والے وہ قانون سازی ہے جس کی رُو سے مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے صدر وکٹر یونوکووچ کے خلاف ایک مہم میں لوگوں کے دستخط جمع کریں گے جس کا مقصد صدر کی قیادت پر اعتماد کے فقدان کا اظہار ہے۔

اپوزیشن لیڈر کلیٹشیو کا کہنا تھا کہ، ’صدر اور ان کے ساتھی ہمارے ملک کو لُوٹنا چاہتے ہیں۔ یوکرین طاقت کے اس غلط استعمال کے خلاف پوری طرح متحد ہے اور ہم ملک میں آمریت کی اجازت نہیں دیں گے‘۔
XS
SM
MD
LG