رسائی کے لنکس

صدر پوٹن نے اس قتل کو "اشتعال انگیزی" قرار دیا قرار دیتے ہوئے نیمتسوو کی والدہ کو بتایا کہ قاتل ہر حال میں گرفتار ہوں گے اور انھیں سزا دی جائے گی۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں صدر ولادیمر پوٹن کے اہم ناقد مقتول رہنما بورس نیمتسوو کی یاد میں ہزاروں افراد ایک بڑے مارچ میں شریک ہوئے۔

بورس نیمتسوو کو جمعہ کو دیر گئے نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ہفتہ کو ہی ہزاروں افراد نے کریملن کے قریب اس جگہہ پر پھول رکھنے اور شمعیں روشن کرنا شروع کر دی تھیں جہاں نیمتسوو کو ہلاک کیا گیا۔

صدر پوٹن نے اپنے ناقد کے قتل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

پوٹن کو جوابدہ تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ مختلف خطوط پر تفتیش کر رہے ہیں جس میں یہ امکانات بھی شامل ہیں کہ نیمتسوو جو کہ ایک یہودی تھے، انھیں کسی اسلامی انتہا پسند نے ہلاک کیا یا پھر حزب مخالف نے صدر کی ساکھ خراب کرنےکے لیے ایسا کام کیا۔

پوٹن کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے امکانات روسی قیادت کے مغرب مخالف رجحان اور نفرت انگیزی کو ظاہر کرتے ہیں۔

حزب مخالف کے ایک رہنما سرگئی متروخن کا کہنا تھا کہ نیمتسوو کا قتل "روس کے لیے ایک دھچکہ ہے، اگر سیاسی نظریات کی اس طرح سزا دی جاتی ہے تو پھر اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔"

صدر پوٹن نے اس قتل کو "اشتعال انگیزی" قرار دیا قرار دیتے ہوئے نیمتسوو کی والدہ کو بتایا کہ قاتل ہر حال میں گرفتار ہوں گے اور انھیں سزا دی جائے گی۔

اپنے ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ " اس قتل کے منصوبہ سازوں اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سب کچھ کیا جائے گا۔"

نیمتسوو سابق وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں اور وہ کریملن پر کھل کر تنقید کرنے والوں میں سب سے نمایاں رہے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل انھوں نے ایک روسی ویب سائیٹ سوبسڈنک کو بتایا تھا کہ " مجھے ڈر ہے کہ پوٹن مجھے مروا دیں گے، میرا ماننا ہے کہ یہ وہی ہیں جنہوں نے یوکرین میں جنگ شروع کی۔ میں انھیں اس سے زیادہ نا پسند نہیں کر سکتا۔"

حزب مخالف کے سیاستدان کے اس قتل پر امریکہ سمیت عالمی برادری کی طرف سے سخت مذمت اور افسوس کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG