رسائی کے لنکس

کچھ مظاہرین کنونشن سنٹر کے اندر گھسنے میں کامیاب ہو گئے اور بار بار ٹرمپ کی تقریر میں مداخلت کی۔ ان میں سے چند کو گھسیٹ کر جلسہ گاہ سے باہر نکالا گیا۔

امریکہ کی ریاست نیو میکسیکو میں منگل کی شام ڈونلڈ ٹرمپ کے جلسے کے باہر مظاہرے ہوئے۔

درجنوں پولیس افسران نے مظاہرین کو بار بار متنبہ کیا کہ وہ جلسے کے مقام کے سامنے فٹ پاتھ سے دور رہیں جہاں ٹرمپ کے حامی اندر داخل ہونے کے لیے قطار میں کھڑے تھے مگر انہوں نے اس کے باوجود ایک رکاوٹ توڑ دی۔

مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر ٹرمپ مخالف نعرے درج تھے جیسے کہ ’’ٹرمپ فاشسٹ ہے‘‘ اور ’’ہم نے بہت سن لیا‘‘ شامل تھے۔

مظاہرین نے ٹرمپ کی مہم کے نعرے ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بناؤ‘‘ والی ٹی شرٹس اور دیگر اشیا کو جلایا اور کچھ جلتی ہوئی اشیا کو پولیس اہلکاروں پر پھینکا۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے بوتلیں اور پتھر بھی پھینکے جس سے کنونشن سینٹر جہاں جلسہ ہو رہا تھا، میں شیشے کے ایک دروازے کو نقصان پہنچا۔

کچھ مظاہرین کنونشن سنٹر کے اندر گھسنے میں کامیاب ہو گئے اور بار بار ٹرمپ کی تقریر میں مداخلت کی۔ ان میں سے چند کو گھسیٹ کر جلسہ گاہ سے باہر نکالا گیا۔

یہ ٹرمپ کا نیو میکسیکو کا پہلا دورہ تھا جس میں ہسپانوی نسل کے افراد کی سب سے بڑی تعداد آباد ہے۔ ریاست کی گورنر سوزینا مارٹینیز امریکہ کی واحد ہسپانوی گورنر ہیں اور ریپبلکن گورنرز ایسوسی ایشن کی سربراہ بھی ہیں۔

سوزینا مارٹینیز نے جلسے میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی اب تک ٹرمپ کی توثیق کی ہے۔

XS
SM
MD
LG