رسائی کے لنکس

پاکستانی قوم کی نفسیات کیا ہے؟


فائل

فائل

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر مبین اختر کہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں تنقید، تشدد اور خوف کی زیادتی ہے۔

پاکستان میں عام طور پر اگر کوئی کسی نفسیاتی بیماری یا ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اسے پاگل سمجھا اور کہا جاتا ہے۔ مسئلہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب کوئی اپنے نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کے لئے ماہرِ نفسیات کے پاس چلا جائے۔ اب تو اسے پاگل ہونے کو سند بھی دے دی جاتی ہے۔

انسانی نفسیات کے ماہرین مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کو سمجھائیں کہ اپنے مسائل کے حل کے لئے وہ ماہر نفسات کی مدد لیں۔ جب انسان اپنی سوچ کو سمجھتا ہے تو اسے اپنے مسائل کی جڑ پتا چلتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسان اپنی سوچ بدل لے تو اس کا عمل بدل جاتا ہے اور اگر کوئی اپنا عمل بدل لے تو نتائج بدل جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اپنی سوچ بدل کر اپنی زندگی بدلی جاسکتی ہے۔

کراچی کے معروف نفسیاتی ہسپتال کے سربراہ اور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر مبین اختر نے پاکستانی قوم کی نفسیات پہ 'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں تنقید، تشدد اور خوف کی زیادتی ہے۔

ملک میں موجود ہر قسم اور ہر سطح کے تشدد کی وجوہات کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ معاشرے میں جرائم پیشہ عناصر کو حکومتی عناصر کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور یہی تشدد کی بنیادی جڑ ہے۔

ڈاکٹر مبین اختر کے بقول جاگیردار ہوں یا کوئی اور بااثر طبقہ، انھیں سیاسی جماعتوں اور حکومت کی سرپرستی ملنے کی وجہ سے وہ نڈر ہو جاتے ہیں اور قانون سے بچ جاتے ہیں اور یوں تشدد کی روک تھام نہیں ہو پاتی۔

ڈاکٹر مبین کا کہنا تھا کہ میڈیا پر بھی الزام لگتا ہے کہ وہ تشدد پھیلا رہا ہے لیکن میڈیا تو ایک آئینے کی طرح ہوتا ہے اور وہی کچھ دکھاتا ہے جو معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے۔ اگر میڈیا یہ سب نہ دکھائے تو لوگوں کو پتا ہی نہ چلے کہ ملک میں ہو کیا رہا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے مزید کہا کہ یہ ضرور ہے کہ میڈیا کو بچوں کے لئے پروگرامنگ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کو بہتر بنانے کے لئے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ پاکستان میں جہاں تعلیم کی بات آتی ہے وہیں سزا کی بات آجاتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ تشدد کے بغیر تعلیم نہیں ہو سکتی جو درست نہیں۔

ڈاکٹر صاحب کے مطابق معاشرے میں تعریف اور انعام کا رجحان بلکل نہیں اور تنقید پر بڑا زور ہے۔ یہاں تک کہ بچہ اگر امتحان میں 80 فیصد نمبر بھی لے آئے تو والدین دل میں تو خوش ہوتے ہیں لیکن بچے کی تعریف کرنے کی بجائے تنقید کرتے ہیں کہ تم اور محنت کرو تو بہتر نمبر لا سکتے ہو۔

ان کے بقول پاکستانی معاشرے میں تنقید، تشدد اور خوف قوم کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں لیکن قومی نفسیات کی خامیاں، خوبیوں پر حاوی ہو گئی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ملکی ترقی کے لئے قوم کو مشترکہ مقاصد اور مفادات کے حصول کے لئے ایک کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کے لئے قوم کی نفسیات کو جاننا لازمی ہے۔

XS
SM
MD
LG