رسائی کے لنکس

بدھ کا دن تحریک انصاف کا دن تھا۔ صبح سے لیکر شام تک تحریک انصاف سے جڑی خبریں ہی سنائی دیتی رہیں۔ ان خبروں میں یہ اہم خبر بھی شامل تھی کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں قومی وطن پارٹی سے اتحاد ختم کر دیا ہے۔

پاکستان کے بالائی صوبے خیبر پختونخواہ میں بُدھ کا دن سیاسی طور پر خاصا ہنگامہ خیز رہا۔ تحریک ِانصاف اور قومی وطن پارٹی کے راستے جدا ہو گئے، وزیراعلیٰ نے کابینہ سے تین وزراء کو فارغ کر دیا جس کے بعد قومی وطن پارٹی کے رہنما سکندر شیرپاؤ مستعفیٰ ہوگئے۔ برطرف وزراء میں صوبے کے رکن صوبائی اسمبلی اور وزیر ِمواصلات یوسف ایوب بھی شامل تھے جنہیں سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری رکھنے پر نااہل قرار دے دیا۔

مذکورہ واقعات سے لگتا ہے کہ بدھ کا دن تحریک انصاف کا دن تھا۔ صبح سے لیکر شام تک تحریک انصاف سے جڑی خبریں ہی سنائی دیتی رہیں۔ ان خبروں میں یہ اہم خبر بھی شامل تھی کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں قومی وطن پارٹی سے اتحاد ختم کر دیا ہے جس کے بعد قومی وطن پارٹی کے سینئر وزیر سکندر شیرپاؤ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ نے غیر تسلی بخش کارکردگی اور کرپشن کے الزامات پر 3 وزراء کو کابینہ سے فارغ کر دیا۔ ان وزراء میں یوسف ایوب خان، ابرار حسین اور بخت بیدارکے نام شامل ہیں۔ یوسف ایوب کا تعلق تحریک انصاف جبکہ باقی دونوں افراد کا تعلق قومی وطن پارٹی سے ہے۔

وزراء کے کابینہ سے فارغ کئے جانے کی اطلاع آئی ہی تھی کہ قومی وطن پارٹی کے سینئر وزیر سکندر شیرپاؤ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف اپنے وزراء کی بدنامی قومی وطن پارٹی کے کاندھوں پر ڈال رہی ہے جبکہ اس کی جانب سے صوبے میں پختون دشمن اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کو وہ ہنگامی پریس کانفرنس میں حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔

اس سے قبل صبح کے اوقات میں سپریم کورٹ نے تحریک ِانصاف کے رکن صوبائی اسمبلی اور وزیر مواصلات خیبرپختونخواہ یوسف ایوب کو جعلی ڈگری پر نااہل قرار دیا تھا۔عدالت نے انہیں شواہد کی روشنی میں الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف درخواست کو مسترد کرتے ہوئے نااہل قرار دیا۔

یوسف ایوب تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ہری پور سے خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 50 سے کامیاب ہوئے تھے ۔
XS
SM
MD
LG