رسائی کے لنکس

جمعیت علمائے اسلام (ف) اور ’ایم کیو ایم‘ نے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کے حوالے سے تحاریک جمع کرا رکھی تھیں۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے سے متعلق ایوان میں پیش کی گئی دو تحاریک واپس لے لی گئی ہیں۔

حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) اور حزب مخالف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ’ایم کیو ایم‘ نے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کے حوالے سے تحاریک جمع کرا رکھی تھیں۔

وزیراعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ سمیت پارلیمان میں موجود کئی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف جمعیت علمائے اسلام (ف) اور ایم کیو ایم سے تحاریک واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز سے قبل اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک طویل مشاروتی اجلاس ہوا جس میں تحریک انصاف کی رکنیت ختم کرنے سے متعلق تحاریک کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

گزشتہ برس اگست سے حکومت کے خلاف احتجاج اور پارلیمان کے باہر دھرنے کے دوران تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی سے غیر حاضر رہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) اور ایم کیو ایم کا موقف تھا کہ آئین کے تحت ایوان کی کارروائی کے دوران اطلاع دیئے بغیر مسلسل 40 روز تک اجلاس سے غیر حاضر رہنے والے اراکین کی رکنیت منسوخ ہو جاتی ہے۔

اس بنا پر دنوں جماعتوں نے تحاریک جمع کروا رکھی تھیں جن پر گزشتہ ہفتے رائے شماری ہونی تھی لیکن حکومت کا یہ موقف تھا کہ وہ چاہتی ہے کہ تحریک انصاف ایوان کا حصہ رہ کر اپنا کردار ادا کرتی رہے۔

جمعرات کو ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی سلمان خان اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کی نعیمہ کشور نے اپنی اپنی جماعتوں کی طرف جمع کرائی گئی تحریکیں واپس لے لی ہیں۔

واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی تحریک واپس لے لیں، جس کا مثبت جواب دیا گیا۔

گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ تحریک انصاف کے اراکین کی رکنیت ختم کرنے سے متعلق تحاریک پر اگر رائے شماری ہوئی تو مسلم لیگ (ن) اس کی مخالفت میں ووٹ دے گی۔

حکومت کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا تھا کہ تحاریک کو واپس لے کر تحریک انصاف کو ایوان میں کردار ادا کرنے دیا جائے۔

XS
SM
MD
LG