رسائی کے لنکس

کراچی کے ضمنی انتخاب کے لئے منگل کی رات ہونے والے پی ٹی آئی جلسے میں اس کے رہنما عمران خان نے رواں ماہ کی 24 تاریخ کو رائے ونڈ مارچ کا بھی اعلان کیا، جبکہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین اور وزیر اعظم نواز شریف پر بھی سخت تنقید کی

کراچی میں صوبائی اسمبلی کےحلقے پی ایس 127 ملیر و کھوکھراپار میں ضمنی انتخابی مہم کا منگل کو آخری روز تھا۔ انتخابی و عوامی رابطہ مہم کے تحت، مختلف سیاسی جماعتوں نے ریلیاں نکالیں اور جلسے منعقد کئے۔

پی ٹی آئی نے نشتر پارک میں جلسہٴ عام منعقد کیا جبکہ ایم کیو ایم پاکستان اور پی پی پی کی جانب سے حلقے میں ریلیاں نکالی گئیں اور لوگوں کو اپنی اپنی جماعت کے نامزد امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کی گئی۔

عمران خان نے جلسے میں خطاب کے دوران کراچی کے مقامی افراد کو بار بار مخاطب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لوگ خود کو اکیلا نہ سمجھیں سارا پاکستان آپ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جینے کا ایک راز یہ ہے کہ مرنے کا خوف دل سے نکال دیا جائے۔ جو قوم خوف میں رہتی ہے وہ غلام بن جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج سے بیس پچیس سال پہلے کراچی کے لوگوں پر خوف طاری کیا گیا، اگر یہ خوف نہ ہوتا تو کراچی ترقی کرتا اور دبئی، دبئی نہ بنتا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کی پالیسی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کراچی میں دہشت گردی کے ذمے دار خود الطاف حسین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ مہاجروں کو بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں محب وطن ہونے کے لئے کوئی ثبوت دینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ خود مہاجر تھیں اور ان کے ننیال والوں نے پاکستان ہجرت کی تھی اور ان کا خاندان محب وطن تھا۔

کراچی کے مسائل کا حل پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے کراچی کو غیر سیاسی کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں موقع ملا تو خیبر پختونخواہ کی طرح کراچی کی پولیس کو غیر سیاسی کریں گے۔

انہوں نے اپنی حکومت آنے کی صورت میں بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے کا بھی وعدہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا 60 فیصد پیسہ کراچی سے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کرپشن ختم کردیا جائے تو کراچی کا پیسہ کراچی پر لگے اور کراچی ترقی کرے گا۔ انہوں نے مختلف حکومتی اداروں کو درست کرنے پر زور دیا جبکہ وزیراعظم نواز شریف پر بھی کڑی تنقید کی۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے 24 ستمبر کو رائے ونڈ جانے کا بھی اعلان کیا۔ رائے ونڈ وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ کے حوالے سے مشہور ہے۔

پی ٹی آئی کی ریلی کو عمران خان کی کراچی آمد کی وجہ سے توجہ ملی۔ مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد پچھلے کئی روز سے جلسے کی تیاریوں میں دن رات ایک کئے ہوئے تھی۔ شہر کے وسط میں ہونے کی وجہ سے سیکورٹی کے ساتھ ساتھ ٹریفک کے بھی متبادل انتظامات کئے گئے تھے اس کے باوجود اطراف کی سڑکوں پر گھنٹوں ٹریفک جام رہا، حتیٰ کہ عمران خان بھی ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔ اسی وجہ سے جلسہ تاخیر کا شکار ہوا۔

جلسہ گاہ میں آنے والے رہنماؤں کے لئے تقریباً 20فٹ اونچا اسٹیج بنایا گیا تھا۔ اسٹیج پر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور دوسرے رہنما براجمان تھے جن میں جہانگیر ترین، عارف علوی، نعیم الحق، اسد عمر اور شیخ رشید شامل تھے۔

اس موقع پر جلسہ گاہ میں اور اس کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات تھے جبکہ پولیس کی بھاری نفری کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے موجود تھی۔ جلسہ گاہ کو بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے تلاشی لےکر کلیئر قرار دیا گیا تھا۔

تجزیہ نگاروں کی نظر میں
سیاسی تجزیہ نگاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا جلسہ کراچی کے مقامی لوگوں کو اپنی جانب کھینچنے میں بہت زیادہ کامیاب تو نہیں ہوسکا اور اس کا ثبوت مقامی افراد کا خاطر خواہ تعداد میں موجود نہ ہونا ہے، البتہ شرکاء کی اکثریت دوسرے صوبوں سے تعلق رکھتی تھی جبکہ جس ضمنی انتخاب اور وہاں کے حلقہ مکینوں کو قائل کرنے کے لئے یہ جلسہ منعقد کیا گیا تھا وہ حلقہ نشتر پارک سے کوسوں دور تھا۔ لہذا، اس بات کا امکان ہی نہیں کہ حلقے والوں نے اس طرف کا رخ کیا ہوگا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی ریلی
پاکستان تحریک انصاف کی ریلی کے ساتھ ساتھ شہر کے ایک اور حصے میں بھی ریلی نکالی جبکہ جلسہ بھی منعقد ہوا۔ یہ ریلی اور جلسہ صوبائی اسمبلی کے حلقے 127 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام مرتضیٰ بلوچ کی رہنمائی میں ہوا، جبکہ مقامی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ صوبائی رہنماؤں نے بھی اس میں شرکت کی۔ ان رہنماؤں میں نثار احمد کُھہڑو، راشد ربانی، وقار مہدی اور نجمی عالم شامل تھے۔

XS
SM
MD
LG