رسائی کے لنکس

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ فوج سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کر رہی۔ دوران خطاب انہوں نے کئی ارکان قومی اسمبلی پر بھی سخت تنقید کی

کراچی ... پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنا احتجاجی دھرنا ایک مرتبہ پھر ہفتے سے ڈی چوک منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کو دوہرایا کہ وہ وزیراعظم کے استعفے کے بغیر دھرنا ختم نہیں کریں گے۔

جمعہ کی رات پارلیمنٹ ہاوٴس اسلام آباد کے سامنے دھرنے پر بیٹھے شرکاء سے خطاب میں عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشتر کہ اجلاس میں حکومتی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان اظہار یکجہتی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ حکمرانوں کا اتحاد مفادات کے لئے ہے۔ لیکن، ہم نظرئیے کی بنیاد پر ایک ساتھ اکھٹا ہوئے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ فوج سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کر رہی۔ دوران خطاب انہوں نے کئی ارکان قومی اسمبلی پر بھی سخت تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے ماڈل ٹاوٴن اور اب اسلام آباد میں پولیس کے ہاتھوں عوام کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

عمران خان نے چینی صدر کے دورہ پاکستان کو ملتوی کئے جانے کا ذمے دار بھی حکومت کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دورہ کنٹینرز لگانے کے سبب ملتوی ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور بادشاہت میں فرق ہوتا ہے۔ ان کا حکومت پر یہ بھی الزام تھا کہ یہاں حکمرانی کے لئے اپنے بچے تیار کئے جارہے ہیں، 500 سے ایک ہزار افراد قرضے لے کر، بقول اُن کے، ’عوام کا خون چوس رہے ہیں‘۔

XS
SM
MD
LG