رسائی کے لنکس

ایک صاحب کا کہنا ہے اچھا ہوا عدالت نے فیصلہ معطل کردیا ورنہ لاکھوں موٹر سائیکل سواروں کو روکنا ممکن ہی نہیں تھا ۔

کراچی میں جمعہ کے روز موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کے فیصلے کوعدالت کی جانب سے معطل کئے جانے پرعوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بیشتر شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے موبائل فون کے بعد موٹر سائیکل چلانے پر پابندی حفاظت کے نام پر’ بھونڈا مزاق‘ ہوتی۔

جس وقت پابندی کا اعلان ہوا شہر کے ہر گلی کوچے میں یہ خبرچرچہ کا موضوع بن گئی۔چونکہ اس طرح کا اقدام پہلی مرتبہ اٹھایا جارہا تھا لہذا شروع میں تو لوگوں کو یقین ہی نہیں آیا۔ لوگ ایک دوسرے کو فون اور ایس ایم ایس کرکے بار بار اس کی تصدیق کرتے رہے۔ ۔۔اور تصدیق کے بعد فیصلے کے خلاف ’سخت ‘ اور تلخ زبان میں ایس ایم ایس شہر بھر میں پھیلتے چلے گئے۔

بیشتر افراد نے وی او اے سے تبادلہ خیال میں اسے ’عوام دشمن اقدام ‘ اور ’بھونڈا مزاق ‘ قرار دیا ۔ شادمان ٹاوٴن نارتھ کراچی کے نوجوان رہائشی ریحان کا کہنا تھا کہ وہ موٹر سائیکل پر کنزیومر پروڈکٹس سپلائی کرتا ہے ،اگر پابندی برقرار رہتی تو کل کی اسے خواہ مخواہ چھٹی کرنا پڑتی۔انہوں نے عدالت کے اقدام پر خوشی کا اظہار کیا۔

ریحان کی طرح پورے شہر میں انگنت افراد کے لئے موٹرسائیکل ان کا ذریعے معاش ہے۔ کراچی سمیت پورے ملک میں موٹر سائیکل انتہائی اہم سواری تصور ہوتی ہے اور شہر کا کوئی بھی حصہ ایسا نہیں جہاں موٹرسائیکل نہ چلائی جاتی ہو۔ اسے عوامی سواری کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ شہر میں عوامی ٹرانسپورٹ اور ایندھن کی کمیابی پہلے ہی لوگوں کے لئے گمبھیر مسئلہ بنی ہوئی ہے ایسے میں موٹرسائیکل پر پابندی کے فیصلے پر سخت عوامی رد عمل سامنے آنا فطری عمل تھا۔

ایک اور شہری سبط حسن کا کہنا ہے ”حکومت اچھا مزاق کررہی تھی ، ایک جانب محرم الحرام میں سیکورٹی کو وجہ بتاکر موٹر سائیکل پر پابندی لگاتی تو لوگ مجالس میں کس طرح شرکت کرتے ۔ رکشا کا کرایہ آسمان سے باتیں کررہا ہے ، ٹیکسیاں تقریباً تقریباً ختم ہوگئی ہیں ، بچی چن چی تو وہ شہر میں چلنے والی 17یا 18لاکھ موٹرسائیکلوں کا نعم البدل نہیں ہوسکتی تھی۔“

ایک اور صاحب کا کہنا ہے ”اچھا ہوا عدالت نے فیصلہ معطل کردیا ورنہ لاکھوں موٹر سائیکل سواروں کو روکنا ممکن ہی نہیں تھا ۔ اس بہانے حکومت کا مزاْق اڑنے سے بچ گیا“

عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ دہشت گردی روکنے کے لئے کبھی موٹر سائیکل تو کبھی موبائل فون پر پابندی دہشت گردی روکنے کا حل نہیں ہے، اس سے ارباب اختیار کے خلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہوتا۔
XS
SM
MD
LG