رسائی کے لنکس

برطانوی عوام چاہتی ہے کہ ،مشرقی یورپ سے آنے والےتارکین وطن برطانیہ میں داخل ہونے سے قبل ویزا حاصل کریں جبکہ دیگریورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے ویزہ پابندی کوازسر نو بحال کیا جائے۔

برطانوی عوام نے یورپی ممالک سے تارکین وطن کی آمد کےخدشے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک عوامی رائے پر مبنی رپورٹ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھجوائی ہے۔

برطانیہ کے ایک روزنامے کے مطابق، تقریباً 79 فیصد عوام کا مطالبہ ہے کہ، یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے ملکوں کی عوام پر برطانیہ میں داخلے کے لیے ویزا حاصل کرنےکی شرط عائد کی جائے۔

اسی سال 31 دسمبر کو رومانیہ اور بلغاریہ کے ملکوں پر یورپی یونین کے معاہدے کی اہم شق ’آزادانہ نقل و حرکت‘ پر پابندی کا قانون اپنی میعاد مکمل کر لے گا۔ جس کے بعد دونوں ملکوں کی2 کروڑ 90 لاکھ عوام کو ویزے کی شرط کے بغیر برطانیہ میں داخل ہونے کے علاوہ مفت رہائش اور بنا ورک پرمٹ کے کام کرنے کا حق حاصل ہو جائے گا۔

عوامی حلقوں میں اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پابندی کے خاتمے کے ساتھ ہی لاکھوں تارکین وطن ایک ریلے کی شکل میں برطانیہ کا رخ کریں گے۔

یہ سروے ایک ’برسلز مخالف تحریکی گروپ ‘ کے عہدیداروں کی جانب سے کرایا گیا ہے۔

اسی گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندے ٹم ایکر کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا مرؤجہ قانون تمام ہی رکن ممالک کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ برطانیہ کی سرحد کو بنا کسی رکاوٹ کے نہ صرف پار کر سکتے ہیں بلکہ مستقل سکونت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

’’برطانوی عوام چاہتی ہے کہ ،مشرقی یورپ سے آنے والےتارکین وطن برطانیہ میں داخل ہونے سے قبل ویزا حاصل کریں جبکہ دیگریورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے ویزہ پابندی کوازسر نو بحال کیا جائے۔‘‘

ایک دوسرے سروے ’کام ریس‘ کےمطابق89 فیصد عوام جن کی عمریں65 برس سے زائد ہیں ان کے نزدیک یورپی یونین کی رکنیت سے دستبرداری دراصل برطانوی معیشت کوغیر متوازن کرنا ہو گا۔

برطانیہ کے شمالی حصے میں واقع ’یورک شائر‘ اور ’ہمبر سائیڈ‘ کی88 فیصد عوام نے یورپی یونین کے معاہدے کی شق ’آزادانہ نقل وحرکت‘ کےقانون کی مخالفت میں رائے دی جبکہ ویسٹ مڈ لینڈ میں 87 فیصد، ساؤتھ ایسٹ میں 82 فیصد اور اسکاٹ لینڈ میں81 فیصد عوام نے برطانوی سرحد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دونوں سروے کے نتائج میں سے صرف7 فیصد عوام نے آزادانہ نقل وحرکت کے قانون کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا ۔

حزب اختلاف کی سیاسی جماعت ’ٹوری‘ کے نمائندے ہولوبون نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’برطانوی عوام اس بات پر متفق ہے کہ موجودہ امیگریشن کا نظام میں تارکین وطن کا اضافی بوجھ ڈالا گیا لہذا مزید تارکین وطن کی آمد سےاس نظام کی مشکلات میں اضافہ ہو جائیگا۔‘‘

برطانوی ’انڈیپینڈنس‘ پارٹی کے سربراہ نیجیل فاریج کے مطابق ، ’عوامی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کا امکان کم نظر آرہا ہے کہ ، ڈیوڈ کیمرون کی جانب سےیورپی یونین کو پیش کی جانے والی مفاہمتی شرائط برطانوی عوام کو مطمئین کر سکیں گی۔ ’’ایک آزاد مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ کون اس کے ملک کی سرحد کو پارکرسکتا ہے اور کون نہیں کر سکتا ہے۔‘‘

وزیر برائے امیگریشن مارک ہارپر نے عالج ومعالجے کی مفت سہولیات کو محدود کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ این ایچ ایس کے طبی ادارے کو بین الاقوامی ادارہ صحت بننے سے روکا جائے۔

یورپی یونین کے قانون کے تحت آزادانہ نقل و حرکت کے معاہدے پر صرف اسی صورت میں ہی کسی ملک کو استثناء دی جاسکتی ہے جب اس ملک کی معیشت معاشی بد حالی کی طرف جارہی ہو۔

اگرچہ حکومت برطانیہ کی جانب سےمتوقع تارکین وطن کی تعداد کے بارے میں اب تک کسی قسم کی پیش گوئی نہیں کی گئی ہے۔

مگر برطانوی تھنک ٹینک کی رائے میں یہ تعداد تقریباً 50 ہزار سے 70ہزار سالانہ کے درمیان ہو سکتی ہے۔ اس گروپ کا یہ بھی ماننا ہے کہ اٹلی اور اسپین میں موجود رومانین اور بلغارین کی ایک بڑی تعداد بھی اس پابندی کے خاتمے کے ساتھ ہی برطانیہ کی جانب ہجرت کرنا شروع کر سکتی ہے۔

برطانوی حکومت تارکین وطن کی آمد کو کچھ شرائط کی بنیاد پر طے کرنا چاہتی ہے جس کے لیے کئی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

اایسےتارکین وطن جواپنی آمد کے تین ماہ بعد تک ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے انھیں اپنے ملک واپس جانا ہو گا۔

اسی طرح یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ دونوں ملکوں سے آنے والے لوگوں کو برطانوی بارڈر ایجنسی کے سامنے 6 ماہ کے اخراجات کی مد میں رقم ظاہر کرنی ہو گی ۔
XS
SM
MD
LG