رسائی کے لنکس

پولٹزر انعام جیتنے والی صحافی وی او اے کی نئی ڈائریکٹر


امانڈا بینیٹ 18 اپریل کو واشنگٹن میں وی او اے کے ہیڈکوارٹرز میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔

امانڈا بینیٹ 18 اپریل کو واشنگٹن میں وی او اے کے ہیڈکوارٹرز میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔

انہوں نے دو دہائیوں تک ’وال سٹریٹ جرنل‘ میں رپورٹر اور مدیر کی حیثیت سے بھی کام کیا جہاں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو مشترکہ طور پر تحقیقاتی رپورٹننگ کرنے پر پولٹزر انعام دیا گیا۔

صحافت اور ادب کا ایک معتبر اعزاز "پولٹزر انعام" جیتنے والی تحقیقاتی صحافی اور مصنفہ امانڈا بینٹ کو امریکی حکومت کے سب سے بڑے بین الاقوامی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ (وی او اے) کی نئی ڈائریکٹر چن لیا گیا ہے۔

وی او اے اور دیگر چار امریکی نشریاتی اداروں کی نگرانی کرنے والے براڈ کاسٹنگ بورڈ آف گورنرز (بی بی جی) کے ایک بیان کے مطابق وہ 18 اپریل کو واشنگٹن میں وی او اے کے ہیڈکوارٹرز میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔

امانڈا بینٹ ’بلومبرگ نیوز‘ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے طور پر خدمات سر انجام دے چکی ہیں جہاں انہوں نے 2013 تک تحقیقاتی صحافیوں اور مدیروں کی ایک بین الاقوامی ٹیم تشکیل دی اور ان کی نگرانی کی۔

اس سے قبل وہ ’فلاڈیلفیا انکوائرر‘ کی مدیر تھیں۔ انہوں نے دو دہائیوں تک ’وال سٹریٹ جرنل‘ میں مدیر اور رپورٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا جہاں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو مشترکہ طور پر رپورٹ کرنے پر پولٹزر انعام دیا گیا کہ عوامی صحت کے حکام نے کس طرح زیادہ پبلک فنڈنگ اور مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے ایڈز کی وبا کو غلط انداز سے پیش کیا۔

بی بی جی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جان لینسنگ نے کہا کہ ’’میں پراعتماد ہوں کہ امانڈا 21 ویں صدی کے وسیع میڈیا چیلنجوں میں وی او اے کی قیادت کے لیے بہترین شخصیت ہیں۔‘‘

امانڈا بینٹ چھ کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

حالیہ دنوں میں وہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے لیے کالم لکھتی رہی ہیں۔ اپنے شوہر ڈونلڈ گراہم کے ساتھ انہوں نے ’’دی ڈریم یو ایس‘‘ قائم کی ہے جو غیر اندراج شدہ تارکین وطن کے بچوں کے لیے کالج سکالرشپ فراہم کرتی ہے۔

امانڈا بینٹ نے کہا کہ ’’میں اس متحرک خبر رساں ادارے کا حصہ بننے پر بہت خوش اور پرجوش ہوں۔ دنیا کے ایک بڑے حصے کے لیے ہم قابل اعتماد، معروضی اور باوثوق خبروں کا واحد ذریعہ ہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے ملک اور اس کے عوام کے دلچسپ تنوع پر خبریں دینے کا ہمارا مشن کسی بھی دوسرے صحافتی موضوع جیسا نہیں۔‘‘

XS
SM
MD
LG