رسائی کے لنکس

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ہر روز خشک پھلیاں، مٹر، چنے اور دالیں کھانے سے ناصرف لوگوں کو وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ یہ وزن کم ہونے کے بعد اسے دوبارہ بڑھنے سے روکنے میں بھی مددگار ہیں۔

بات جب وزن کم کرنے کی آتی ہے تو اکثر لوگ یہ سوچ کر ہی فکر مند ہوجاتے ہیں کہ انھیں کتنی ورزش کرنی پڑئے گی اور کیا کیا پرہیز کرنا پڑئے گا یا پھر بعض خوش قسمت افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو ورزش، پرہیز اور کیلوریز پر نظر رکھے بغیر بھی کم وزن رکھتے ہیں انھیں سائنس کی زبان میں 'مائنڈ لیسلی سلم' کہا جاتا ہے۔

اب ایک نئی تحقیق سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ غذا اور جسمانی سرگرمیوں کی روٹین میں کوئی تبدیلی کئے بغیر بھی آپ روزانہ کی بنیاد پر لوبیا کی پھلیاں، چنے، مٹر اور دالیں کھا کر دبلے پتلے ہوسکتے ہیں۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ہر روز خشک پھلیاں، مٹر، چنے اور دالیں کھانے سے ناصرف لوگوں کو وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ یہ وزن کم ہونے کے بعد اسے دوبارہ بڑھنے سے روکنے میں بھی مددگار ہیں۔

جریدہ 'امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن' کی مارچ کی اشاعت میں 'جسم کے وزن پر غذائی پھلیوں کے اثرات' کے نام سے شائع ہونے والی تحقیق سے ظاہر ہوا کہ ایک دن میں صرف 130 گرام یا تین چوتھائی کپ دالیں کھانا وزن میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ کھانے سے پیٹ زیادہ دیر بھرا بھرا محسوس ہوتا ہے اور یہ خراب کولسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں بھی مدد کرتی ہیں۔

یہ ایک منظم جائزہ ہے جس میں محققین نے 940 مردوں اور عورتوں پر مشتمل 21 طبی جائزوں کا تجزیہ کیا جس میں شرکاء نے روزانہ کی بنیاد پر صرف ایک مرتبہ دالیں اپنی خوراک میں شامل کر کے چھ ہفتوں کے دوران 0.75 پاونڈ کی اوسط سے وزن کم کیا تھا ۔

نتائج سے واضح تھا کہ انھوں نے اس دوران دیگر کھانے پینے کی اشیاء سے اجتناب کی کوشش کئے بغیر اپنے وزن کو کم کیا تھا۔

سینٹ مائیکلز اسپتال سے منسلک تحقیق کے مصنف ڈاکٹر رسل ڈی سوزا نے کہا کہ دالوں کے معلوم فوائد کو جانتے ہوئے بھی صرف 13 فیصد کینیڈین ہر روز خشک پھلیوں اور دالوں کو اپنے کھانوں میں شامل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کم وزن کے ممکنہ فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی غذائی عادات میں دالیں اور پھلیاں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پھلیاں اور دالیں گلائسمک انڈیکس پر کم درجے کی غذا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ ٹوٹنے کے بعد توانائی میں تبدیل ہوکر خون میں آہستہ آہستہ شامل ہوتی ہے جس سے خون میں شکر کی سطح بلند نہیں ہوتی۔

گلائسمک انڈیکس ایک نظام ہے جس میں کھانوں کی درجہ بندی، خون میں شکر کی سطح پر ان کے اثرات کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور کھانوں کی اشیاء کو ایک سے 100 کے اسکیل پر ظاہر کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ڈی سوزا کے مطابق وزن میں کمی کے نوے فیصد طریقے اس وقت ناکام ہو جاتے ہیں جب ان سے وزن کم ہونے کے بعد دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔

انھوں نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وزن میں معمولی کمی ہوئی تھی لیکن نتائج یہ بتاتے ہیں کہ ڈائیٹ میں صرف دالیں شامل کرنے سے آپ کو اپنا وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور یہ بات اور بھی زیادہ اہم لگتی ہے کہ وزن کم ہونے کے بعد دوبارہ بڑھنے کی پریشانی بھی دور ہوجاتی ہے۔

یہ مطالعہ کینیڈا میں سینٹ مائیکلس اسپتال سے منسلک محققین کی ٹیم کی طرف سے کیا گیا تھا جس سے پتا چلا کہ اعلی ریشے دار کھانوں سے دبلا پتلا ہونے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ دالیں اور پھلیاں صحت مند غذائیں ہیں جن میں چربی اور کیلوریز دونوں کم ہیں ۔

ڈاکٹر ڈی سوزا نے کہا کہ ہماری نئی تحقیق نے ہمارے ایک پچھلے مطالعے کی توثیق کی ہے جس سے ظاہر ہوا تھا کہ دالیں کھانے سے پیٹ بھرنے کے احساس میں 31 فیصد اضافہ ہوا تھا اور نتیجتاً شرکاء نے کھانے کی کم مقدار کھائی تھی۔

دریں اثناء ایک پچھلے مطالعےمیں ایک دن میں ایک کپ خشک پھلیاں یا دالیں کھانے کو خراب کولسٹرول کی سطح میں پانچ فیصد کمی کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG