رسائی کے لنکس

پنجاب یونیورسٹی میں طالب علموں کے دو گروہوں میں تصادم ، 18 زخمی


پنجاب یوینورسٹئ لاہور میں طلبہ گروپوں میں تصادم۔ 21 مارچ 2017

حکومت پنجاب نے اس واقعہ کی انکواری کا حکم جاری کیا ہے، جب کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایک نجی ٹیلی وژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی اس تصادم کا ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

افضل رحمن

لاہور کی قدیم درسگاہ پنجاب یونیورسٹی میں منگل کے روز وہاں کے فیصل آڈیٹوریم کے سامنے یونیورسٹی کے پشتون طالب علموں کی تنظیم کے زیر اہتمام پشتون کلچرل ڈے کی تقریب جاری تھی کہ وہاں مبینہ طور پر اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق رکھنے والے طالب علموں نے نعرے بازی شردع کر دی جس کے نتیجے میں تصادم کی فضا پیدا ہوگئی۔

صورت حال اس قدر بگڑ گئی کہ پولیس کی نفری طلب کرنا پڑی۔ پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھیوں کا استعمال کیا، جب کہ طالب علموں نے ایک دوسرے اور پولیس پر پتھر پھینکےجس سے متعدد طالب علم زخمی ہوگئے۔

چند گھنٹوں کے بعد وہاں پولیس نے حالات پر قابو پا کر سرچ آپریشن کیااور اس دوران گرفتاریاں بھی کی گئیں۔حکومت پنجاب نے اس واقعہ کی انکواری کا حکم جاری کیا ہے، جب کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایک نجی ٹیلی وژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی اس تصادم کا ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

پنجاب یونیورسٹی کی سیاست سے واقفیت رکھنے والے کہتے ہیں کہ منگل کے روز ہونے والا واقعہ ایک منفرد نوعیت کا ہے۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے اپنی تعلیمی زندگی پنجاب یونیورسٹی میں گذاری اور وہ ڈین فیکلٹی آف آرٹس کے طورپر ریٹائر ہوئے۔انہوں نے وائس آف امریکہ سے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر جھگڑے فساد ہوتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ پشتون اور اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کے درمیان لڑائی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ پشتون طالب علم پہلے اسلام جمعیت کا ہی حصہ ہوتے تھے لیکن اب انہوں نے اپنی الگ پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن بنا لی ہے، جس کی وجہ سے جمعیت اب اپنے آپ کو کمزور محسوس کرنے لگی ہے۔ یہ واقعہ اس کا ردعمل ہو سکتا ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے ترجمان اسامہ اعجاز نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اس کی تردید کی کہ جمعیت کے لڑکوں نے نعرے بازی شروع کی جس کی وجہ سے لڑائی شروع ہوئی۔ان کا موقف تھا کہ ان کے اپنے پروگرام جاری تھے جن میں پشتون طالب علموں نے آکر گڑبڑ مچائی ، نعرے بازی کی اور تصادم ہوا۔

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر یونیوسٹی میں جاری سیاست کا آئینہ دار ہے، جس میں جو نئے وائس چانسلر آئے ہیں انہیں بظاہر ناکام بنانے کی ایک کوشش اس گروپ کی طرف سے ہو سکتی ہے جو اس وائس چانسلر سے پہلے یونیورسٹی پر قابض تھا۔

تعلیم ہی کے شعبے میں لاہور سے ایک المناک خبر یہ ملی ہے کہ بادامی باغ کی واسا کالونی کے ایک نجی سکول کے پرنسپل رضوان تنویر کو ایک بچے کا نام سکول سے خارج کرنے پر بچے کے باپ راشد نے اپنی بیوی ، ساس اور ایک دوست کی مدد سے زدوکوب کر کے قتل کر دیا۔ بچہ مسلسل غیر حاضر تھا۔ تحریری شکایت بھی کی گئی تھی، مگر جب نام خارج ہوا تو بچے کے باپ کو طیش آگیااور یہ واقعہ ہوا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے راشد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ڈاکٹر مغیث اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سکولوں کے پرنسپل اور ہیڈماسٹرز اگر آزادانہ فیصلے کرتے ہیں تو پھر ان کی سیکیورٹی کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ جب کہ یہ حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کا انتظام کریں۔

ا ن کا کہنا تھا کہ والدین اور ٹیچرز کے درمیان ہمارے ہاں کوئی رابطے نہیں ہوتے اوروالدین اور ٹیچرز کی میٹنگ کی روایت بھی یہاں جڑ نہیں پکڑ سکی، تو یہ بھی ایک وجہ بنتی ہے ایسے پرتشدد واقعات کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG