رسائی کے لنکس

دولمیال میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملے کے بعد حالات بدستور کشیدہ


چکوال کے ایک گاؤں میں احمدی عبادت گاہ پر حملے کے بعد کا منظر۔ 12 دسمبر 2016

پیر کے واقعہ کے بعد علاقے میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موجود ہے, لیکن ابھی تک حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔

افضل رحمن

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال میں دولمیال نامی گاؤں میں جہاں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے جمعے کے روز دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی ، حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

دولمیال نامی گاؤں پر پیر کے روز احمدیہ جماعت کی ایک عبادت گاہ پر ایک مشتعل ہجوم نے حملہ کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے پس منظر میں جمعے کے رو ز چند مقامی مذہبی جماعتوں نے احتجاجی پروگرام بنایا تھا جسے مقامی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 کر کے ناکام بنادیا۔

مذہبی جماعتوں نے علاقے کی تمام مسجدوں میں احتجاجی قراردادیں منظور کیں۔

انتظامیہ کی جانب سے جو حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، اس میں نفرت انگیز تقریر کرنے، مشتعل کرنے والے نعرے لگانے اور دیواروں پرنفرت آمیز پیغامات لکھنے پر ، جن سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھتی ہو، پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکم نامے میں کسی قسم کے اسلحے کی نمائش سے بھی روکا گیا ہے اور جلسے جلوس پر بھی مکمل پابندی عائد ہے۔

علاقے میں احمدیہ جماعت سے تعلق رکھے والے افراد کی صورت حال کے بارے میں احمدیہ جماعت کے ترجمان سیلم الدین احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پیر کے واقعہ کے بعد علاقے میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موجود ہے۔ لیکن ابھی تک حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ احمدیہ فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی وفات کے بعد اس کی آخری رسوم وہاں نہیں کی جاسکیں اور اس کی میت کی تدفین ربوہ لے جا کر کرنی پڑی۔

انہوں نے بتایا کہ علاقے سے تھوڑی سی تعداد میں احمدی فرقے کے لوگ دوسرے علاقوں میں چلے گئے ہیں۔

احمدیہ جماعت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا دارلذکر بند کر دیا گیا ہے جس سے پریشانی کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کی حکومت نے جو گرفتاریاں کیں ہیں ان میں زیادہ تراحمدی شامل ہیں۔

اس واقعہ میں ملوث ہونے کے إلزام میں گرفتار کیے جانے والے 29 افراد کو انسداد دهشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے14 دن کے عدالتی ریمانڈ پر انہیں جیل بھیج دیا ہے۔

مقدمے کی اگلی سماعت 29 دسمبر کو ہوگی۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG