رسائی کے لنکس

حکومت پنجاب کی طرف سے سامنے آنے  والے ایک اعلامیے کے مطابق صوبے بھر کے اسکول یکم فروری کو دوبارہ  کھلیں گے۔

پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں شدید سرد موسم کے باعث تمام اسکول 31 جنوری تک بند کر دیے گئے ہیں۔

حکومت پنجاب کی طرف سے پیر کو سامنے آنے والے ایک اعلامیے کے مطابق صوبے بھر کے اسکول یکم فروری کو دوبارہ کھلیں گے۔

تاہم بیان میں ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن صوبے میں اسکولوں کو بند کرنے کا اعلان گزشتہ ہفتے ملک کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ میں ایک یونیورسٹی پر ہوئے مہلک دہشت گرد حملے کے بعد سامنے آیا جس میں طلباء سمیت 21 افراد ہلاک ہوئے۔

حملے کا نشانہ بننے والی چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پیر کو صرف چند گھنٹوں کے لیے کھلنے کے بعد دوبارہ غیر معینہ عرصے کے لیے بند کر دی گئی۔

یونیورسٹی حکام نے اس کی وجہ تعلیمی ادارے میں ضروری تعمیر و مرمت کے کام کو قرار دیا گیا۔

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اسکولوں کی بندش کا فیصلہ سردی کی حالیہ غیر معمولی لہر ہی کے باعث کیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد پنجاب بھر میں اسکولوں کی سکیورٹی کا ازسر نو جائزہ لیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت میں بھی منگل کو چند نجی اسکول بند رہے تاہم یہ اسکول بدھ کو دوبارہ کھول دیئے جائیں گے۔

دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے مہلک حملے کے بعد سے ملک میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کو بڑھایا گیا تھا لیکن چارسدہ یونیورسٹی پر حملے کے بعد شدت پسندوں کی طرف سے ایک وڈیو میں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی۔

صوبہ پنجاب، خبیر پختونخواہ اور ملک کے بالائی علاقے گزشتہ چند روز سے شدید سردی اور دھند کی لپیٹ میں ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اس دوران پشاور سے لاہور تک موٹر وے پر دن کے کچھ اوقات میں سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی جبکہ دارالحکومت اسلام آباد سمیت لاہور اور پشاور کے ہوائی اڈوں پر پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہو رہا ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے میدانی علاقوں، خیبر پختونخواہ میں پشاور کے گردونواح اور بالائی سندھ آئندہ چند روز تک رات اور صبح کے اوقات میں شدید دھند کی لپیٹ میں رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG