رسائی کے لنکس

پنجاب حکومت جماعت الدعوۃ کی عدالت کے بارے میں فیصلہ کرے: لاہور ہائی کورٹ


لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کی وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’’تمام متعلقہ فریقین کو شنوائی کا موقع فراہم کر کے قانون کے مطابق‘‘ اس معاملے پر فیصلہ کرے۔

لاہور ہائی کورٹ نے صوبہ پنجاب کی حکومت کو بدھ کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک درخواست کا فیصلہ کرے جس میں جماعت الدعوۃ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ لاہور میں غیر مجاز شرعی عدالت چلا رہی ہے۔

جماعت الدعوۃ کو امریکہ نے ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ مغربی ممالک اسے شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کی ہی ایک شاخ سمجھتے ہیں جس پر 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا الزام عائد کیا گیا تھا جن میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان میں جائیداد کے کاروبار سے منسلک خالد سعید نے جماعت الدعوۃ کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی زیرِنگرانی چلنے والی عدالت نے ایک تنازعے کو نمٹانے کے لیے جنوری میں اسے پیش ہونے کا سمن جاری کیا تھا۔

عدالتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم پر متوازی شرعی عدالتیں قائم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جہاں اسلامی قوانین کے ماہر خاندانی، شہری اور فوجداری معاملات میں سرکاری نگرانی کے بغیر فیصلے سناتے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کی وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’’تمام متعلقہ فریقین کو شنوائی کا موقع فراہم کر کے قانون کے مطابق‘‘ اس معاملے پر فیصلہ کرے۔

خالد سعید نے خبر رساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ جماعت الدعوۃ کے خط میں اسے خبردار کیا گیا تھا کہ اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہوا تو ’’کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا اور شریعت کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘‘

خالد سعید کے وکیل مقبول حسین شیخ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں عدالتی حکم نامے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کریں گے۔

’’میں عدالت سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنے حکم پر نظر ثانی کرے اور واضح حکم جاری کرے اور ہمیں تحفظ دے۔‘‘

ان کا کہنا تھا ان کے مؤکل نے عدالت سے رجوع کرنے سے قبل پنجاب کی وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی مگر اس پر کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

جماعت الدعوۃ کے حکام نے لشکر طیبہ سے کسی بھی تعلق یا متوازی نظام انصاف چلانے کی تردید کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عدالت مذہبی رہنماؤں کی نگرانی میں تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتی ہے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

جماعت الدعوۃ کے نمائندے نے کہا کہ خالد سعید کو بھیجا جانے والا سمن جعلی ہے اور تنظیم کسی کو بھی دھمکیاں یا سمن جاری نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو ان خلاف ہزاروں شکایتیں موصول ہوتیں۔

XS
SM
MD
LG