رسائی کے لنکس

زمینی کارروائی کے بعد اب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے فضائی کارروائیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ بدھ کو راجن پور میں جرائم پیشہ عناصر سے جھڑپ میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع راجن پور اور دیگر محلقہ اضلاع میں کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف پولیس اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔

حکام کے مطابق بدھ کو راجن پور میں جرائم پیشہ عناصر سے جھڑپ میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

زمینی کارروائی کے بعد اب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے فضائی کارروائیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ان کارروائیوں میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں کے علاوہ رینجرز بھی حصہ لے رہے ہیں جب کہ انھیں فوج کی مدد بھی حاصل ہے۔

گزشتہ ہفتے فوج کی طرف سے ایک بیان کے ساتھ جاری کی گئی ویڈیو میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاں فوجی اہلکار آپریشن کی تیاریاں کر رہے ہیں وہیں فضا میں ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتے ہیں۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس آپریشن میں جس طرح کے بھی وسائل کی ضرورت ہوئی اُس کا استعمال کیا جائے گا۔

’’ہماری جو بھی ایجنسیاں ہیں انھیں استعمال کیا جاتا ہے ہدف کوکو مدنظر رکھتے ہوئے اور وہاں زمینی حقائق اور زمینی حالات کو مدنظر رکھ کر کس قوت سے اور کس طرح فضائینگرانی کرنی ہے باقی چیزیں استعمال کرنی ہیں زمینی کونسی فورس کسحد تک استعمال کرنی ہے اس کا فیصلہ مل کر کیا جاتا ہے۔‘‘

طلال چوہدری نے کہا کہ فضائی کارروائیوں کا مقصد زمینی فورس کے ممکنہ جانی نقصان کو کم سے کم کرنا ہوتا ہے۔

’’ ان ہیلی کاپٹروں کا استعمال ان ہی علاقوں میں اور خصوصاً ان سرحدی علاقوں میں جو ہمارے باقی صوبوں کے ساتھ لگتے ہیں اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے کیوں کہ یہ اس طرح کے علاقے ہیں وہاں تک پہنچنا زمینی طور پر ممکن نہیں ہے وہاں زمینی راستے نہیں ہیں سکیورٹی فورسز کا نقصان زیادہ ہو سکتا ہے تو اس لیے اس طرح کی چیزیں استعمال کی جا سکتی ہیں تاکہ کوئی نقصان کم از کم ہو اور ٹارگٹ کو حاصل کیا جا سکے۔‘‘

اطلاعات کے مطابق کسی بھی طرح کی فضائی کارروائیوں سے قبل کچے کے علاقے میں چھپے مسلح گروہوں کو ہتھیار پھینکنے خاص طور پر بچوں اور عورتوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق احمد سکھیرا گزشتہ تین روز سے خود ان کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے جن علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں حکام کے مطابق وہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع ہیں اور یہاں سے شدت پسند ایک سے دوسرے علاقوں میں سفر کرتے رہتے ہیں۔

لاہور میں 27 مارچ کو ہونے والے مہلک خود کش بم دھماکے کے بعد جنوبی پنجاب میں’ضرب آہن‘ کے نام سے آپریشن شروع کیا گیا۔

پنجاب پولیس کے مطابقاس آپریشن میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لگ بھگ 150 سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جب کہ دو مطلوبہ ’شدت پسند‘ مارے بھی جا چکے ہیں۔

ان کارروائیوں میں پولیس کے لگ بھگ 1600 اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

ماضی میں پنجاب حکومت اگرچہ محدود پیمانے پر ان علاقوں میں کارروائیاں کرتی رہی ہے لیکن وہ کسی بڑے آپریشن کے حق میں نہیں تھی۔

تاہم لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد بالآخر حکومت کو یہ آپریشن کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG