رسائی کے لنکس

پیر کو گجرانوالہ میں ہونے والے مظاہرے کے دوران مشتعل افراد نے پہلے جی ٹی روڈ بلاک کیا ، واپڈا دفتر میں توڑ پوڑ کی ،پولیس وین سمیت متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور پھر لاہور سے سیالکوٹ جانے والی ٹرین کو آگ لگا دی جس سے پانچ بوگیاں مکمل طور پر جل گئیں ۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں توانائی بحران کے خلاف مظاہروں میں شدت کے ساتھ ساتھ لوٹ مار کی وارداتیں بھی عام ہو گئی ہیں جبکہ پیر کو گوجرانوالہ میں مشتعل افراد نے ٹرین کو آگ لگا دی ۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر الزام تراشی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے ۔

پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی کروڑوں میں ہے۔یہ صوبہ ان دنوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہے ۔ صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔

پیر کو گجرانوالہ میں ہونے والے مظاہرے کے دوران مشتعل افراد نے پہلے جی ٹی روڈ بلاک کیا ، واپڈا دفتر میں توڑ پوڑ کی ،پولیس وین سمیت متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور پھر بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو کاموکی اسٹیشن پر کھڑی لاہور سے سیالکوٹ جانے والی ٹرین کو آگ لگا دی جس سے پانچ بوگیاں مکمل طور پر جل گئیں ۔

اس دوران مظاہرین نے مسافروں کا سامان تو لوٹا ہی ،بوگیوں میں لگے پنکھے اور بلب بھی نکال کرلے گئے ۔ واقع کے بعد ریلوے انتظامیہ نے ریلوے ٹریک بھی عارضی طور پربند کر دیا ۔

اس سے قبل فیصل آباد میں ہزاروں افراد ڈنڈے اٹھا کر سڑکوں پر نکل آئے اور ایک شاپنگ پلازہ پر ہلا بول دیا ۔ اس دوران توڑ پھوڑ کی گئی اور جس کے ہاتھ جو آیا ساتھ لے گیا ۔ اس دوران پولیس کے درمیان مظاہرین کی جھڑپ بھی ہوئی ۔

جڑانوالہ میں مشتعل مظاہرین نے بینک اور پیٹرول پمپ پر توڑ پھوڑ کی ۔چکوال میں مظاہرین نے پہلے بجلی کے بل جلائے اور پھر واپڈا کے دفتر کو آگ لگا دی ۔ اس دوران مظاہرین کے سامنے جو بھی سرکاری املاک آئی وہ ان کے غضب سے نہ بچ پائی ۔

نارروال میں بھی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے کے دوران پولیس موبائل کو عوامی غضب کا نشانہ بنایا گیا ۔ چکوال کی سڑکیں بھی میدان جنگ کا منظر پیش کرتی رہیں ۔ پنجاب اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی صورتحال تقریباً یہی رہی ۔

ادھر مرکز میں حکمراں جماعت پیپلزپارٹی اور پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے قیادت کے درمیان الزام تراشی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی چوہدری احمد مختار نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی پیداوار بڑھانا آسان نہیں ، توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں املاک کو آگ لگانے کا کسی کو فائدہ نہیں ، اگر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف احتجاج میں شامل ہوتے ہیں تو ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کرائیں گے ۔

مشیر داخلہ رحمن ملک کہتے ہیں کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے کسی رکن اسمبلی کو نقصان پہنچا تو اسکی ذمہ داری شہباز شریف پر ہو گی ۔ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ”اسپانسر ڈغنڈی گردی“ کے ذمے دار وزیراعلیٰ ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف مظاہروں اور حملوں کو روکنے کے بجائے سیاست چمکاتے ہوئے سیاسی مخالفین کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔ وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں پنجاب کے حکمرانوں نے ’جاگ پنجابی جاگ ‘کا نعرہ لگا کر قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی اور اب بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں کی قیادت کر رہے ہیں ۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ان تمام بیانات کا جواب دیتے ہوئے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وفاق نے صوبوں کو بجلی بنانے کے اختیارات نہیں دیئے ۔پانچ مئی کودوسرے صوبوں کی حمایت سے پنجاب نے بجلی کی پیداوار کا مسئلہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایا لیکن مرکز نے ہماری کوششوں کوناکام بنا دیا ۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ مظاہرے عوامی غیض و غضب کے عکاس ہیں اور وہ ان کی بھر پور حمایت کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ بعض مظاہروں میں وزیراعلیٰ پنجاب بھی شریک ہوجاتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG