رسائی کے لنکس

پنجابی طالبان اور صوبائی حکومت کا موقف

  • ب

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے بڑے واقعات کے بعد صوبے میں عسکریت پسندوں کے خلاف مبینہ طور پر صوبائی سطح پر کسی مربوط کارروائی نا ہونے کی بنا پر پنجاب میں برسرِ اقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کو مختلف حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے متعدد رہنماؤں، بشمول وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، نے حالیہ دنوں میں دیے گئے بیانات میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت شدت پسندوں کے ساتھ پر تشدد تصادم سے بچنے اور مبینہ طور پر سیاسی وجوہات کے سبب ان عناثر کو نظر انداز کر رہی ہے۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہونے والے ہلاکت خیزحملوں کے بعد مبصرین کے بقول اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ افغان سرحد کے قریب واقع شمال مغربی علاقوں میں پاکستانی فوج کے کامیاب آپریشن کے باعث طالبان جنگجو اب پنجاب میں سرگرم کالعدم انتہاپسند تنظیموں سے مل کر ملک کے نسبتاًپرامن علاقوں میں عام شہریوں کے علاوہ سرکاری اور عسکری اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں۔

پنجاب حکومت صوبے میں شدت پسندوں، جن کو پنجابی طالبان کا نام دیا جا رہا ہے، کی موجودگی کا اعتراف کرتی ہے لیکن ساتھ ہی اس کا کہنا ہے کہ ان عناصر کے خلاف صوبے کے کسی مخصوص حصے میں آپریشن شروع کرنے سے منفی نتائج سامنے آئیں گے۔

صوبائی وزیر قانون رانا ثناالله نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ انتہا پسند مذہبی تنظیموں کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ان سے جڑے افراد کا تقریباً 15 فیصد حصہ دہشت گردنہ سرگرمیوں میں شامل ہو گیا ہے۔ ان کے بقول ”شدت پسند (پنجاب میں) چھپے ہوئے تو ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔“

البتہ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ان شدت پسندوں کو پکڑنے کے لیے ان کے خاندانوں کے خلاف کارراوئی کرنا کوئی مثبت عمل نہیں ہو گا۔

ان کے مطابق اگر روایتی انداز میں شدت پسندوں کے اہلخانہ سے تفتیش کی جاتی ہے اور معلومات کے حصول کے لیے ان پر تشدد کیا جاتا ہے تو عین ممکن ہے کہ ان میں سے کئی افراد دہشت گردی کی طرف مائل ہو جائیں۔

رانا ثناالله نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس سوچ کی بنیاد پر حکومت پنجاب کا موقف ہے کہ بغیر کسی واضح ثبوت کے پنجاب میں سوات یا جنوبی وزیرستان کی طرز پر فوجی کارروائی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لیکن انھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے حوالے سے مصدقہ معلومات پر پنجاب کے سکیورٹی ادارے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری تنقید کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کے رہنما، خاص طور پر وفاقی وزیر رحمن ملک اور پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر ، حکومت پنجاب کو بدنام کرنے کی کوشش میں یہ الزامات لگا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG