رسائی کے لنکس

ملتان میں خواتین کے پہلے انسداد تشدد کے مرکز کا قیام


انسداد تشدد مرکر برائے خواتین کی ںئی عمارت

اس مرکز میں انصاف دلانے کے حوالے سے تمام متعلقہ شعبے ایک چھت کے نیچے جمع کر دیے گئے ہیں، جن میں پولیس ، فرانزک، پر اسیکیوشن، میڈیکو، لیگل ایڈ، اور سائیکالوجسٹ سب شامل ہیں۔ تاکہ شکایت کنندہ کی شکایت کا فوری ازالہ ہوسکے۔

افضل رحمن

گذشتہ بر س پنجاب میں تحفظ حقوق نسواں کا جو قانون منظور ہوا تھا، اس کے تحت صوبے کے جنوبی شہر ملتان میں پہلاانسداد تشدد مرکز برائے خواتین مکمل ہو چکا ہے اور اس کا افتتاح ہفتے کے روز وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کر رہے ہیں۔

انسداد تشدد کے یہ مراکز حکومت پنجاب کے سٹریٹجک ریفارم یونٹ کے تحت قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل سلمان صوفی نے وائس آف امریکہ کےساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ملتان میں انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کے افتتاح کے ساتھ ہی تحفظ حقوق نسواں کا قانون ملتان میں نافذ العمل ہوجائے گا۔

پہلے ضلع میں مرکز بنے گا اور پھر قانون پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں سلمان صوفی نے کہا کہ ماضی میں قانون منظور ہو جانے کے بعد اس پر عمل درآمد ایک مسئلہ بن جاتا تھا۔ اس وجہ سے اب پنجاب حکومت نے یہ منفرد طریقہ اختیار کیا ہے کہ پہلے انسداد تشدد کا مرکز قائم کیا جائے اور پھر قانو ن کو نافذ العمل کر دیا جائے تاکہ عمل درآمد میں آسانی ہو۔

مذہبی حلقوں کی طرف سے تحفظ نسواں قانون کے بارے تحفظات کا اظہار ہوتا رہا ہے ۔ اس حوالے سے سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ مذہبی حلقوں کی جانب سے اس حوالے سے حکومت کو تجاویز بھی موصول ہوئی تھیں اور ان حلقوں سے بات چیت بھی ہوئی تھی۔ ان کے بقول بعض شقوں کی تشریح مذہبی حلقوں کو درکار تھی جو فراہم کر دی گئی۔

انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کی ساخت بیان کرتے ہوئے سلمان صوفی نے بتایا کہ اس مرکز میں انصاف دلانے کے حوالے سے تمام متعلقہ شعبے ایک چھت کے نیچے جمع کر دیے گئے ہیں، جن میں پولیس ، فرانزک، پر اسیکیوشن، میڈیکو، لیگل ایڈ، اور سائیکالوجسٹ سب شامل ہیں۔ تاکہ شکایت کنندہ کی شکایت کا فوری ازالہ ہوسکے۔

اس سوال کے جواب میں کہ مرحلہ وار ان مراکز کے قیام کے عمل میں جو آئے روز مسائل در پیش ہوں گے، ان کا سد با ب کیسے کیا جائے گا۔ سلمان صوفی نے کہا کہ ان کے یونٹ نے اس غرض سے ایک وومن پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام کی تجویز پیش کی ہے جو وزیر اعلی نے منظور کر لی ہےاور اب ایک ہفتے کے بعد یہ تجویز کابینہ میں پیش ہوگی جس کے بعد یہ پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کے لیےرکھ دی جائے گی۔

سلمان صوفی نے اس امید کا اظہار کیا کہ وومن پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام سے تحٖفظ حقوق نسواں کے قانون پر مرحلہ وار عمل کی ضمانت فراہم ہوجائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG