رسائی کے لنکس

پنجابی طالبان کی طرف سے عسکری کارروائیاں ترک کرنے کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا جب دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ شمالی وزیرستان میں 15 جون سے جاری فوجی آپریشن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان میں پنجابی طالبان کے نام سے پہچانے جانے والے ’شدت پسند گروپ‘ کے سربراہ نے ملک میں عسکری کارروائیاں ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پنجابی طالبان کے سربراہ عصمت اللہ معاویہ کا ایک ویڈیو پیغام ہفتہ کی شام منظر عام پر آیا جس میں اُنھوں نے کہا کہ عسکری کارروائیاں ترک کرنے کا یہ فیصلہ اُن کے بقول علمائے دین سے مشاورت اور مکالمے کے بعد کیا گیا۔

عصمت اللہ معاویہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں ملک کے قبائلی علاقوں میں موجود طالبان اور حکومت پاکستان سے کہا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔

پنجابی طالبان کی طرف سے عسکری کارروائیاں ترک کرنے کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا جب دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ شمالی وزیرستان میں 15 جون سے جاری فوجی آپریشن میں حکام نے اہم کامیابیاں حاصل کرنے کا کہنا ہے۔

پاکستانی فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ’ضرب عضب‘ کامیابی سے پہلے سے طے شدہ اہداف کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور اب تک غیر ملکی شدت پسندوں سمیت لگ بھگ ایک ہزار دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

فوج کے مطابق شمالی وزیرستان کے انتظامی مرکز میرانشاہ کے علاوہ میرعلی اور طالبان کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے دیگر اہم علاقوں کو صاف کیا جا چکا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ دہشت گردوں کے کمانڈ اور مواصلات کے نظام کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے علاوہ پاکستانی فوج کے مطابق صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس کی معلومات کی بنیاد پر بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG