رسائی کے لنکس

ترکی نے روسی طیارہ گرا کر پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے، صدر پیوٹن


ایک ترک ٹی وی پر نشر کی جانے والی ویڈیو میں روسی طیارے کو زمین پر گرتے ہوئے دکھایا گیا ہے

ایک ترک ٹی وی پر نشر کی جانے والی ویڈیو میں روسی طیارے کو زمین پر گرتے ہوئے دکھایا گیا ہے

روسی صدر نے الزام عائد کیا کہ شام میں داعش کے زیرِ قبضہ علاقوں سے نکالے جانے والے تیل کی بڑی مقدار ترکی پہنچائی جارہی ہے جس سے دہشت گرد تنظیم کو "مالی وسائل" حاصل ہورہے ہیں۔

روس کے صدر پیوٹن نے ترکی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں میں مصروف روسی طیارے کو گرا کر "روس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے"۔

روس کے جنوبی شہر سوچی میں اردن کے حکمران شاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات کےبعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے تصدیق کی کہ منگل کو شام کے سرحدی علاقے میں گر کر تباہ ہونے والا روسی طیارہ ترک فضائیہ کے ایک 'ایف-16' کا نشانہ بنا ہے۔

اس سے قبل روسی حکام نے کہا تھا کہ طیارہ زمین سے کی جانے والی فائرنگ کےنتیجے میں تباہ ہوا۔

ترک حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی طیارہ مسلسل ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا تھا اور اسے نشانہ بنانے سے قبل پانچ منٹ کے دوران 10 بار متنبہ کیا گیا تھا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ جب روسی طیارے کو نشانہ بنایا گیا اس وقت وہ ترکی کی سرحد سے لگ بھگ ایک کلومیٹر دور شام کی فضائی حدود کے اندر پرواز کر رہا تھا۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ روسی فضائیہ کا طیارہ اپنی پوری پرواز کے دوران ترکی کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کی جانب سے داعش کےخلاف فضائی حملے کرنے والے روسی طیارے کو مار گرانے کا واقعہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی معمول کی کارروائیوں سے ہٹ کر ایک واقعہ ہے اور ایسا کرکے ترکی نے دہشت گردوں کی مدد کی ہے۔

روسی صدر نے خبردار کیا کہ منگل کو پیش آنے والے اس واقعے کے دونوں ملکوں کے تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

صدر پیوٹن نے داعش کےخلاف شام میں فضائی حملوں میں مصروف روسی فوجی اہلکاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جانوں کو داؤ پر لگا کر دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں کر رہے ہیں اور ایسے افراد پر حملہ "دہشت گردوں کے ساتھیوں کی جانب سے روس کے پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے"۔

روسی صدر نے الزام عائد کیا کہ شام میں داعش کے زیرِ قبضہ علاقوں سے نکالے جانے والے تیل کی بڑی مقدار ترکی پہنچائی جارہی ہے جس سے دہشت گرد تنظیم کو "مالی وسائل" حاصل ہورہے ہیں۔

ادھر واشنگٹن میں، ’ایٹلانٹک کونسل‘ کے سینئر فیلو، ایریل کوہن نے کہا ہے کہ روسی لڑاکا طیارے کو گرائے جانے کے نتیجے میں، بقول اُن کے، ’صورت حال مزید کشیدہ ہوجائے گی، جب کہ اس واقعے کے بعد روس ترک توانائی کے تعلقات پر منفی نتائج مرتب ہوں گے۔‘

ایک بیان میں کوہن نے یاد دلایا کہ گذشتہ سال دسمبر مین پیوٹن ہی نے ترک ’اسٹریم گیس پائپ لائن‘ کی تعمیر کی تجویز دی تھی، جو، بقول تجزیہ کار، ’عین ممکن ہے کہ یہ منصوبہ اپنی موت آپ مر جائے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں، روس کو میسر ایک موقع مسترد ہوجائے گا جس کی بدولت وہ ترکی اور یورپ کو گیس کے 63 ارب مربع میٹر تک برآمد کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، جس سے روس کی آمدن کو اربوں یورو کا نقصان پہنچے گا۔

دوم یہ کہ اس واقعے کے بعد عین ممکن ہے کہ اکیوو میں زیر تعمیر بجلی کی چار جوہری تنصیبات مکمل نہیں ہوپائیں۔ ساتھ ہی، اُن کا کہنا تھا کہ ترکی کو دو بار سوچنا پڑے گا آیا وہ اب بھی ’روزایٹم کمپنی‘ کے زیر سایہ اِن مہنگے ترین منصوبوں کو مکمل کرنے کی طرف مائل رہے گا، جس پر 20 ارب ڈالر کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

اس سے قبل، روسی حکام کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے طیارے کے دونوں پائلٹ طیارے سے بروقت نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن ان سے تاحال رابطہ نہیں ہوا ہے۔

مذکورہ علاقے میں زمین سے بنائی جانے والی ایک ویڈیو میں دو پائلٹوں کو پیرا شوٹ کےذریعے آسمان سے زمین کی جانب آتا دکھایا گیا ہے۔

شامی باغیوں کے ایک گروہ نے ایک لاش کی ویڈیو جاری کی ہے جسے باغی گرائے جانے والے روسی طیارے کاپائلٹ قرار دے رہے ہیں۔

شام میں جنگ پر نظر رکھنی والی ایک تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ جنگی جہاز شام کے صوبے لاذقیہ کے شمالی علاقے میں پہاڑوں پر گر کر تباہ ہوا جہاں اس سے قبل فضائی بمباری کی گئی تھی۔ اس علاقے میں شام کی فورسز باغیوں سے برسرپیکار ہیں۔

دریں اثنا ترکی نے اپنے راڈار پر روسی طیارے کی نقل و حرکت کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مبینہ روسی طیارہ کئی بار شامی حدود میں داخل ہوا۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے ایک ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ ترک حکام نے روسی طیارے کو نشانہ بنانے سے قبل کئی بار وارننگ دی تھی جس کا روسی پائلٹوں نے جواب نہیں دیا تھا۔

واقعے کے ردِ عمل میں روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنا ترکی کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔ لاوروف کو بدھ کو شام کی صورتِ حال پر بات چیت کے لیے انقرہ پہنچنا تھا۔

روسی وزارتِ خارجہ نے روسی شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ "سیاحت یا کسی اور غرض سے" ترکی کے سفر سے گریز کریں۔

واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر غور و خوض کے لیے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اعلیٰ سکیورٹی حکام کا اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں وزیرِاعظم احمد داؤد اولو، ترک مسلح افواج کے سربراہان اور اہم وزرا شریک ہیں۔

ترکی کی درخواست پر مغربی ملکوں کے دفاعی اتحاد 'نیٹو' نے بھی منگل کو اپنا ایک اہم اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں ترک حکام اتحادیوں کو روسی طیارے کو مار گرائے جانے سے متعلق بریفنگ دیں گے۔

XS
SM
MD
LG