رسائی کے لنکس

روس دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف اتحاد کا خواہاں


اس بات کا اعلان کرتے ہوئے، روسی صدر نے کہا ہے کہ انھوں نے اس مسئلے پر ترکی کے صدر طیب اردگان، سعودی عرب کی قیادت، اردن کے شاہ عبداللہ اور مصر کے صدر عبدالفتح السیسی اور دیگر سے بھی بات کی ہے

روسی صدر ولادی میر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک انسداد دہشت گردی پر ایک بین الاقوامی تحاد قائم کرے گا؛ اور یہ کہ شام کے صدر قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات کے لئے تیار ہیں، جس میں اپوزیشن اراکین بھی حصہ لے سکتے ہیں۔

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے جمعہ کو ولادی وسٹوک میں ’مشرقی معاشی فورم‘ سے خطاب میں کہا کہ ’ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ایک ایسا بین الاقوامی اتحاد قائم کیا جائے جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑ سکے۔ ہماری حکومت امریکی شراکت داروں سے ان مسائل پر مشاورت کر رہی ہے اور میں نے خود ذاتی طور پر صدر اوباما سے ان مسائل پر بات چیت کی ہے۔‘

روسی صدر نے کہا کہ انھوں نے اس مسئلے پر ترکی کے صدر طیب اردگان، سعودی عرب کی قیادت، اردن کے شاہ عبداللہ اور مصر کے صدر عبدالفتح السیسی اور دیگر سے بھی بات کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کے اتحاد کے قیام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات شام میں سیاسی عمل کے متوازی چلنی چاہئیں۔ انھوں نے کہا کہ شام کے صدر بشار الا اسد نے اس بات سے اتفاق کیا ہے اور قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے لئے تیار ہیں۔ جس کے لئے، بقول ان کے، ’نام نہاد اپوزیشن‘ سے رابطہ بھی کیا گیا ہے، تاکہ انھیں حکومت میں شامل کیا جاسکے۔

ولادی میر پوتن کا کہنا تھا کہ شام کے پناہ گزین بشار الاسد انتظامیہ کی وجہ سے نہیں بلکہ داعش کی سفاکی کی وجہ سے فرار ہو رہے ہیں۔ لیکن، ہم سجھتے ہیں کہ سیاسی تبدیلی ضروری ہوگئی ہے۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ اپنے طور پر اس سلسلے میں کام کررہے ہیں۔

مغربی حکومتیں اور انسانی حقوق کے گروپ اس سلسلے میں شامی حکومت اور دولت اسلامیہ گروپ دونوں پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔

ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف آپریشن میں روس کی فوجی مداخلت پر رائے زنی کرنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن، روس دمشق کو سنجیدہ حمایت، فوجی آلات اور فوجی تربیت فراہم کر رہا ہے۔

جمعرات کو وائٹ ہاوس کے ترجمان جوش آرنسٹ نے کہا تھا کہ واشنگٹن اس بات کا بغور جائزہ لے رہا ہے کہ روس نے شام میں اپنی فوج اور جنگی جہاز تعینات کئے ہیں۔

بقول اُن کے، ’اسد حکومت کو فراہم کی جانے والی کوئی بھی مدد خواہ وہ کسی بھی مقصد کے لئے ہو، فوجیوں کی صورت میں ہو یا جنگی جہاز، اسلحہ یا رقم کی صورت میں۔۔ عدم استحکام کا باعث بنے گی اور اس کے برے نتائج برآمد ہوں گے‘۔

XS
SM
MD
LG