رسائی کے لنکس

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن ایک روزہ دورے پر ترکی پہنچے ہیں جہاں وہ ترک وزیرِ اعظم کے ساتھ شام میں جاری سیاسی بحران سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن ایک روزہ دورے پر ترکی پہنچے ہیں جہاں وہ ترک وزیرِ اعظم رجب طیب اردگان کے ساتھ ملاقات میں شام میں جاری سیاسی بحران سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

صدر پیوٹن پیر کو ترکی کے شہر استنبول پہنچے جہاں ترک وزیرِاعظم نے ان کا استقبال کیا۔ ابتداً انہیں یہ دورہ اکتوبر میں کرنا تھا تاہم ان کی صحت سے متعلق متضاد اطلاعات کے تناظر میں دورہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ دو ماہ میں صدر پیوٹن کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

روسی صدر کی ترکی آمد کے موقع پر ان کے مخالفین نے استنبول میں واقع روسی قونصل خانے کے باہر ایک مظاہرہ بھی کیا جس کے شرکا نے صدر پیوٹن کے خلاف بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔

تجزیہ کاروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ روسی صدر اور ترک وزیراِعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شام کا مسئلہ سرِ فہرست ہوگا جس پر دونوں ممالک میں واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔

روس شام کے صدر بشار الاسد کا اہم حمایتی ہے جب کہ ترکی صدر اسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔

روس شام کے خلاف سخت لب و لہجے کی حامل اور قتل و غارت نہ روکنے پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں پر مشتمل مغربی ممالک کی کئی قراردادیں سلامتی کونسل میں ویٹو کرچکا ہے۔

دونوں رہنمائوں کے درمیان ملاقات میں باہمی تجارت اور معیشت سے متعلق امور بھی زیرِ غور آئیں گے۔واضح رہے کہ ترکی اور روس کے درمیان قریبی تجارتی روابط موجود ہیں۔ ترکی روس سے درآمد کی جانے والی قدرتی گیس پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے جب کہ روس میں ترکی کی کئی تعمیراتی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG