رسائی کے لنکس

عرب لیگ اجلاس: صدر پوٹن کے خط پر سعودی عرب کا سخت رد عمل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سعودی عرب اور روس کے تعلقات ماسکو کی طرف سے بشارالاسد کی حمایت کی وجہ سے سرد مہری کا شکار ہیں جس کی ریاض مخالفت کر رہا ہے۔

سعودی عرب نے روس کے صدر ولا دیمیر پوٹن پر ’’منافقت‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر کو ایک ایسے وقت مشرق وسطی ٰ کی حمایت کا اظہار نہیں کرنا چاہیئے جب اُن کی طرف سے شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت سے خطے میں عدم استحکام بڑھا ہے۔

ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس میں صدر پوٹن کے خط کو پڑھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اجلاس میں عرب لیگ کے رہنماؤں نے شام، یمن اور لیبیا سمیت علاقائی بحرانوں کے حل سے نمٹنے پر غور کیا۔

پوٹن نے اپنے خط میں کہا کہ ’’ہم عربوں کے ایک خوشحال مستقبل کی خواہش اور عرب دنیا کو درپیش مسائل کو بغیر کسی بیرونی دباؤ کے پُر امن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔

ان کے اس بیان پر سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔

انہوں نے اجلاس میں اس خط کے پڑھنے کے فوراً بعد کہا کہ ’’وہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کے بارے میں (اس طرح) بات کر رہے ہیں جیسا کہ روس ان مسائل پر اثر انداز نہیں ہو رہا ہے‘‘۔

سعودی عرب اور روس کے تعلقات میں سرد مہری کی وجہ ماسکو کی طرف سے شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت ہے۔

صدر بشار الاسد کی فوجوں اور باغیوں کے درمیان جاری خانہ جنگی کی وجہ سے گزشتہ چار سال میں شام میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سعودی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ (ماسکو) کی طرف سے شام کو جو اسلحہ فراہم کیا گیا وہ ’’شام کی حکومت اپنے خلاف لڑنے والوں پر استعمال کر رہی ہے۔‘‘

پرنس سعود کا کہنا تھا کہ ’’میں اُمید کرتا ہوں کہ صدر پوٹن اس (عمل) کو درست کریں گے تاکہ عرب ممالک کے روس کے ساتھ تعلقات کو بہترین بنایا جا سکے۔‘‘

XS
SM
MD
LG