رسائی کے لنکس

بدھ کو ہونے والی مسجد کی افتتاحی تقریب میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے دارالحکومت ماسکو میں تعمیر کی جانے والی نئی جامع مسجد کا افتتاح کردیا ہے جہاں بیک وقت 10 ہزار افراد نما زادا کرسکتے ہیں۔

بدھ کو ہونے والی مسجد کی افتتاحی تقریب میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔

مسجد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر پیوٹن نے روسی مسلمان رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ شدت پسندی کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ روسی مسلمان نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچانے کے لیے انہیں اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب سیاسی مقاصد کےحصول کے لیے مذہبی جذبات کو بھڑکایا جارہا ہے مسلمان نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچانا اور حقیقت پسندی کی تعلیم دینا بہت ضروری ہوگیا ہے۔

صدر پیوٹن نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں داعش کے دہشت گردنفرت کے بیج بو کر، لوگوں کو قتل کرکے اور تاریخی ثقافتی ورثے کو برباد کرکے اسلام جیسے عظیم مذہب کو بدنام کر رہے ہیں۔

روسی صدر نے کہا کہ داعش جیسی شدت پسند تنظیموں کا فلسفہ جھوٹ کی بنیاد پر کھڑا ہے اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

نو تعمیر شدہ مسجد پر 17 کروڑ امریکی ڈالر لاگت آئی ہے جو روسی مسلمان علما کی تنظیم 'کونسل آف مفتیز' کے مطابق مختلف شخصیات اور اداروں کی جانب سے ملنے والے چندے سے حاصل کی گئی ہے۔ قازقستان اور ترکی کی حکومتوں نے بھی مسجد کی تعمیر میں تعاون کیا ہے۔

مسجد بیسویں صدی کی ابتدا میں تاتاری مسلمانوں کی جانب سے تعمیر کی جانے والی ایک تاریخی مسجد کے مقام پر بنائی گئی ہے اور گنجائش کے اعتبار سے ماسکو کی سب سے بڑی مسجد ہے۔

روس کے اکثریتی مذہب آرتھوڈاکس مسیحیت میں عبادت خانوں کے لیے مستعمل اصطلاح کی مناسبت سے مسجد کو 'ماسکو کیتھیڈرل مسجد' کا نام دیا گیا ہے۔

مسجد کا سنہرا گنبد اور بلند مینار بھی بڑی حد تک آرتھوڈاکس گرجا گھروں سے مشابہہ ہیں لیکن ان کی چوٹیوں پر نصب اسلام کا علامتی نشان، ہلال اور ستارہ انہیں امتیازی بناتا ہے۔

اسلام آرتھوڈاکس مسیحیت کے بعد روس کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق روس میں لگ بھگ دو کروڑ مسلمان بستے ہیں اور ملک کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 15 فی صد ہے۔

XS
SM
MD
LG