رسائی کے لنکس

روس کا جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا اعلان


صدر پیوٹن نے منگل کو ماسکو کے نزدیک فوجی نمائش سے خطاب کیا

صدر پیوٹن نے منگل کو ماسکو کے نزدیک فوجی نمائش سے خطاب کیا

صدر پیوٹن نے کہا کہ نئے میزائل جدید ترین میزائل دفاعی نظام کی زد میں آئے بغیر ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک رواں سال اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں 40 نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کا اضافہ کرے گا۔

منگل کو ماسکو کے نزدیک روس کی وزارتِ دفاع کے زیرِ اہتمام ہونے والی فوجی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ نئے میزائل جدید ترین میزائل دفاعی نظام کی زد میں آئے بغیر ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ روس نے اس وقت بھی مختلف مقامات پر 515 بین البراعظمی بیلسٹک میزائل نصب کر رکھے ہیں جن پر 1582 نیوکلیئر وار ہیڈز موجود ہیں۔ ان میں سے بعض میزائل روسی آبدوزوں پر بھی نصب ہیں۔

صدر پیوٹن کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین میں مبینہ روسی مداخلت اور مشرقی یورپ کے ملکوں میں بھاری ہتھیاروں کی منتقلی کے مجوزہ امریکی منصوبے پر دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی عروج پر پہنچی ہوئی ہے۔

صدر پیوٹن کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی روسی وزارتِ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے روس کے پڑوسی ملکوں میں امریکہ کی جانب سے بھاری ہتھیار ذخیرہ کرنے کے مجوزہ منصوبے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے "سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کا سب سے اشتعال انگیز قدم" قرار دیا تھا۔

منگل کو فوجی نمائش میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روس کے نائب وزیرِ دفاع اناطولی انتونوف کا کہنا تھا کہ ماسکو میں یہ احساس جڑ پکڑ رہا ہے کہ نیٹو ممالک روس کو ہتھیاروں کی دوڑ کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

مجوزہ منصوبے کے تحت امریکہ جنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں اور بھاری توپ خانے سمیت اپنے پانچ ہزار تک فوجی اہلکار بلغاریہ، ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، رومانیہ، پولینڈ اور ہنگری منتقل کرے گا۔ یہ تمام کے تمام ممالک ماضی میں سوویت یونین کے زیرِاثر رہ چکے ہیں اور ان کی نیٹو میں شمولیت امریکہ اور روس کے درمیان وجۂ نزاع بنی رہی ہے۔

پولینڈ اور لتھوانیا کے حکام تصدیق کرچکے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ ماہ امریکہ کے فوجی حکام کے ساتھ مجوزہ منصوبے پر تبادلہ خیال کیا تھا اور امریکی حکام نے اس تجویز پر جلد کوئی فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

دریں اثنا 'نیٹو' کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے بین البراعظمی میزائلوں میں اضافے کا فیصلہ "ماسکو کے اس رویے کا عکاس ہے جس کا دنیا کچھ عرصے سے مشاہدہ کر رہی ہے"۔

صدر پیوٹن کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے نیٹو کے سربراہ نے بیلسٹک میزائلوں کی تعداد میں اضافے کے روسی صدر کے بیان کو جوہری طاقت کا غیر ضروری اور بے بنیاد اظہار قرار دیا۔

صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے جینز اسٹالٹن برگ کا کہنا تھا کہ روس کا یہ قدم خطے کے استحکام کے لیے خطرے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس کی اسی نوعیت کی حرکتوں کی وجہ سے نیٹو ممالک اپنے افواج کی تیاری اور صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

بالٹک اور مشرقی یورپ کے ملکوں میں اپنے بھاری ہتھیار منتقل کرنے کے امریکی منصوبے سے متعلق سوال پر نیٹو کے سربراہ نے کہا کہ وہ اس امریکی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں جس کا مقصد، ان کے بقول، اپنے اتحادیوں کا تحفظ کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG