رسائی کے لنکس

سرگئی شوئیگو روس کی طرف سے نو ماہ قبل بشارالاسد کی حمایت میں روسی فورسز بھیجنے کے بعد شام کا دورہ کرنے والے اعلیٰ ترین روسی عہدیدار ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد نے ہفتے کو روس کے وزیر دفاع سے دمشق میں ملاقات کی جبکہ امریکی اور روسی عہدیداروں نے الگ بات چیت میں رواں ہفتے امریکہ کی حمایت یافتہ باغی فورسز پر روس کے حملے کے معاملے پر بات چیت کی ہے۔

سرگئی شوئیگو روس کی طرف سے نو ماہ قبل بشارالاسد کی حمایت میں روسی فورسز بھیجنے کے بعد شام کا دورہ کرنے والے اعلیٰ ترین روسی عہدیدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر ولادیمر پوٹن کے ذاتی نمائندے کے طور پر دمشق گئے۔

روس کے دفاعی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شوئیگو کی بات چیت کا ایجنڈا "ماسکو اور دمشق کے درمیان فوجی اور تکنیکی تعاون کا موجودہ معاملہ" اور "شام میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کے خلاف لڑائی میں تعاون ہے"۔

کئی ماہ سے جاری روسی فضائی کارروائیوں کی وجہ سے شام کی سرکاری فورسز کو حزب مخالف کے جنگجوؤں کے خلاف پیش رفت میں مدد ملی ہے۔ تاہم یہ معاملہ امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی کا باعث بنا ہے۔

امریکہ روس پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ وہ اکثر اوقات داعش کے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کی بجائے اعتدال پسند حزب مخالف کے گروپوں کو نشانہ بناتا ہے۔

حال ہی میں التنف کے علاقے میں روس کے فضائی حملوں میں حزب مخالف کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں اس سے پہلے روس کے طیارے سرگرم نہیں تھے۔

اعلیٰ امریکی عہدیداروں نے روس کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع ایش کارٹر نے جمعہ کو اس بات کی شکایت کی کہ روسی عہدیدار " اس مواصلاتی رابطے کو "مناسب طریقے سے استعمال نہیں کر رہے"جو " غیر محفوظ فضائی کارروائی کو روکنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔"

ایش کارٹر کے اس بیان کے چند ہی گھنٹوں کے بعد پینٹاگان نے کہا کہ امریکی اور روسی فوجی عہدیداروں نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے جمعرات کو ہونے والی فضائی کارروائیوں کے معاملے پر بات چیت کی۔

شام کی حزب مخالف کے گروپوں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا ماننا ہے کہ روس کی فضائی کارروائیوں کی وجہ سے لا تعداد عام شہری ہلاک ہوئے۔

وہ یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ روس کے ہوابازوں کے بلاامتیاز فضائی حملوں میں سول اسپتالوں، اسکولوں اور اس بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کا باغیوں کی فوجی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG