رسائی کے لنکس

انہوں نے کہا کہ اس ہفتے کے اوائل میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کا دورۂ روس اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ ’’ان معاملات جنہیں مشترکہ کوششوں سے حل کیا جا سکتا ہے‘‘ پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

روس کے صدر ولادیمر پوتن نے کہا کہ خواہ کوئی بھی امریکہ کا نیا صدر منتخب ہو وہ واشنگٹن کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔

بین الاقوامی نامہ نگاروں کے ساتھ اپنی سالانہ نیوز کانفرنس میں پوتن نے کہا کہ امریکی عوام جسے بھی صدر منتخب کریں گے وہ اس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ہفتے کے اوائل میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کا دورۂ روس اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ ’’ان معاملات جنہیں مشترکہ کوششوں سے حل کیا جا سکتا ہے‘‘ پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

شام سے متعلق پوتن نے کہا کہ روس کا فوجی آپریشن سیاسی عمل شروع ہونے تک جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ کہ ملک پر کسے حکومت کرنی چاہیئے شامی عوام کو کرنا چاہیئے۔

پوتن نے کہا کہ انہیں ابھی یہ نہیں معلوم کہ روس کو شام میں مستقل فوجی اڈے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

ترکی کی طرف سے روسی جنگی طیارہ گرائے جانے کے حوالے سے پوتن نے کہا کہ انہیں انقرہ کی موجودہ قیادت سے کشیدگی میں کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر بہت حیران ہوئے کہ ترکی نے اپنے اقدام کی وضاحت کرنے کی بجائے نیٹو سے جا کر مدد مانگی۔

روسی صدر نے ایک مرتبہ پھر مشرقی یوکرین میں روسی فوج کی موجودگی کی تردید کی جہاں روس نواز علیحدگی پسند یوکرین کی فوج سے نبرد آزما ہے۔

مگر انہوں نے کہا کہ ماسکو نے کبھی اس بات سے انکار نہیں کیا کہ ’’کچھ افراد‘‘ وہاں ’’فوجی دائرہ کار‘‘ میں کام سرانجام دے رہے ہیں۔

پوتن نے یہ بھی کہا کہ روس یوکرین کے خلاف کوئی پابندی لگانے کا ارادہ نہیں رکھتا مگر اس سے ترجیحی بنیادوں پر تجارت نہیں کرے گا۔

XS
SM
MD
LG