رسائی کے لنکس

قذافی کے بیٹے پر لیبیا میں مقدمہ چلانے کی حمایت


پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان (فائل فوٹو)

پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان (فائل فوٹو)

اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے سلامتی کونسل میں لیبیا کی صورتحال پر ہونے والی ایک بحث میں کہا کہ ’’ ہم امید کرتے ہیں کہ لیبیائی عہدیداران کی اس درخواست پر عدالت کے دائرہ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے مثبت انداز میں غور کیا جائے گا۔‘‘

پاکستان نے لیبیا کی اس درخواست کی حمایت کی ہے جس میں سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام اور انٹیلی جنس کے سابق سربراہ عبداللہ السنوسی پر جرائم کی عالمی عدالت کی بجائے ملک میں مقدمہ چلانے کے لیے کہا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے سلامتی کونسل میں لیبیا کی صورتحال پر ہونے والی ایک بحث میں کہا کہ ’’ ہم امید کرتے ہیں کہ لیبیائی عہدیداران کی اس درخواست پر عدالت کے دائرہ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے مثبت انداز میں غور کیا جائے گا۔‘‘

گزشتہ سال معمر قذافی کے وفاداروں اور حزب مخالف کی قوتوں کے درمیان شدید لڑائی کے دوران ہیگ میں قائم جرائم کی عالمی عدالت نے سیف الاسلام کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

ان پر الزام ہے کہ وہ انسانیت کے خلاف جرائم، لیبیائی عوام پر تشدد اور شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ سیف الاسلام ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

اقتدار کے خاتمے کے بعد سیف الاسلام قذافی کو گزشتہ سال 19 نومبر کو لیبیا کےجنوبی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ زنتان میں زیر حراست ہیں۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق سفیر مسعود خان نے کہا کہ اگر ان افراد پر ملک میں مقدمہ چلایا جاتا ہے تو لیبیا کی حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کارروائی شفاف ہونی چاہیے۔

پاکستانی سفیر کا دیگر مبینہ جرائم کے بارے میں کہنا تھا کہ اس سے قطع نظر کہ یہ جرم کس نے کیے ان کی مفصل تحیقیقات کی جانی چاہیے تھیں۔ ان کے بقول انصاف کی مکمل فراہمی کے طریقہ کار سے امن اور استحکام کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

مسعود خان کا کہنا تھا کہ پاکستان لیبیائی عوام کی فلاح کی مکمل حمایت کرتا آیا ہے۔
XS
SM
MD
LG