رسائی کے لنکس

اجمل قصاب کی پھانسی پر بھارت و غیر ممالک میں ملاجلا ردِ عمل

  • سہیل انجم
  • نئی دہلی

اجمل قصاب کے ساتھ قانون کی رو سے انصاف کیا گیا ہے۔ پہلے بھی ہم نے یہی کہا تھا کہ ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیئے: ترجمان امریکی محکمہٴخارجہ

ممبئی حملوں کےمجرم اجمل عامر قصاب کی پھانسی پر بھارت اور دیگر ملکوں میں ملا جلا ردِ عمل ظاہر کیا جارہا ہے۔ جہاں بھارت کی سیاسی جماعتوں اور بعض مسلم تنظیموں نے اِس کا خیر مقدم کیا ہے، وہیں انسانی حقوق کے عمبرداروں نے اس پر سوالات اٹھائے ہیں۔

جمعیت علمائے ہند کےقانونی شعبے کے سکریٹری گلزار اعظمی نے اجمل قصاب کی پھانسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں ایسے عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔ اُن کے بقول، اسلامی قانون کے مطابق جو شخص اس قسم کے تشدد میں مبتلا ہو اس کی واحد سزا موت ہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ بھارت نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کو بالکل برداشت نہیں کرے گا۔

لیکن، انسانی حقوق کے علمبرداروں نے قصاب کی پھانسی پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ اُسے صدر کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق نہیں دیا گیا۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق، یہ طریقہ قانون کی حکمرانی سے گریز ہے اور اِس الزام کا دروازہ کھلتا ہے کہ پاکستانی شہری کے ساتھ امتیاز سے کام لیا گیا ہے۔

ایسے سوال کھڑے کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسی کئی مثالیں ہیں جب ہائی پروفائیل مجرموں کی موت کی سزا پر عدالتوں نے روک لگائی ہے۔ حالانکہ، صدر نے اُن کی رحم کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔

اُنھوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کےقتل کیس میں موت کی سزا کے حقدار قرار دیے گئے تین مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے پر مدراس ہائی کورٹ کی روک کا حوالہ دیا۔

اُنھوں نے ایسی کئی مثالیں دی ہیں جِن میں عدالتوں نےموت کی سزا پر یا تو روک لگادی ہے یا عمر قید میں بدل دی ہے اور سوال کیا ہے کہ اجمل قصاب کو اس کا حق کیوں نہیں دیا گیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعلیٰ، عمر عبد اللہ نے اجمل قصاب کو بندوق برداراور فلسطین کی تنظیم حماس کو دہشت گرد گروپ قرار دینے پر امریکی میڈیا پر نکتہ چینی کی ہے۔

بالی ووڈ اسٹار امیتابھ بچن نے کہا ہے کہ اجمل قصاب کی پھانسی دراصل ممبئی حملوں کے متاثرین کے لیےانصاف کا باعث ہے۔

ادھر، نیو یارک میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ بھارت کو سزائے موت پر روک لگانے کے اپنے یک طرفہ فیصلے پر قائم رہنا چاہئیے۔ لیکن، اُس نے اجمل قصاب کو پھانسی دے کر آٹھ سال سے جاری غیر سرکاری پابندی کو ٕختم کر دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر کے مطابق، اجمل قصاب کی پھانسی بھارت کے نظامِ انصاف کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔ حکومت کو سزائے موت کے مکمل خاتمے کے لیے فوری اور فیصلہ کُن قدم اٹھانا چاہئیے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اُن ملکوں سے جہاں اب بھی پھانسی کی سزا دی جاتی ہے اُسے ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اُنھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کردہ اُس قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے جِس میں تمام میمبر ملکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سزائے موت کو ختم کرنے کے مقصد سے اپنے طور پر روک لگائیں، جب کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان، مارک ٹونر نے کہا ہے کہ اجمل قصاب کے ساتھ قانون کی رو سے انصاف کیا گیا ہے۔اُن کے بقول، پہلے بھی ہم نے یہی کہا تھا کہ ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیئے۔

دریں اثنا، پاکستانی طالبان نے دھمکی دی ہے کہ وہ اجمل قصاب کی پھانسی کا انتقام لیں گے۔ پاکستانی طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ اگر بھارت قصاب کی لاش طالبان یا قصاب کے اہل خانہ کےسپرد نہیں کرتا تو بھارتی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

سابق کرکٹر عمران خان کی تحریک ِانصاف نے پاکستانی جیل میں بندموت کی سزا کے پانے والے، سربجیت سنگھ کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان میں ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ سازون کے معاونین کے وکلا نے کہا ہے کہ اجمل قصاب کی پھانسی سے اُن کے مؤکلوں کے خلاف استغاثہ مزید کمزور ہوگا۔

ادھر، فوج اور حکومت نے سابق کمانڈو نائیک سریندر سنگھ کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ سبک دوشی کے بعد اُسے ملنے والے 21لاکھ روپے نہیں دیے گیے ہیں۔ سریندر ممبئی حملوں کے دوران زخمی ہوا تھا اور معذور ہوگیا تھا۔ پریس کونسل آف انڈیا کے چیرمین جسٹس مارکنڈے نے پاکستان کےنام ایک خط میں اپیل کی ہے کہ سربجیت سنگھ کا موازنہ اجمل قصاب سے نہ کیا جائے اور اُسے فوراً رہا کر دیا جائے۔
XS
SM
MD
LG