رسائی کے لنکس

قطر: افغان طالبان امن بات چیت بے نتیجہ

  • شہناز نفیس

فائل

فائل

افغان حکومت کی طرف سے، افغان طالبان کے اس اعلامیے پر کوئی سرکاری رد عمل تاحال سامنے نہیں آیا۔۔ تاہم، افغان امن کونسل کے ایک رکن کے بقول، ’افغان حکومت، طالبان کے ساتھ بات چیت میں سنجیدہ ہے۔ لیکن، طالبان کو بھی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘

قطر میں افغان طالبان اور افغان امن کونسل کے مابین دوروزہ مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ مکالمے کا اہتمام امن کے نوبیل انعام یافتہ، پگواش نامی تنظیم نے کیا تھا۔ یہ ادارہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کو فروغ دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔

قطر میں بات چیت ختم ہونے کے بعد، افغان طالبان کے وفد کے سربراہ، محمد عباس نے ایک اعلامیہ میں اپنے ماضی کی شرائط کو دہراتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے سے پہلے ضروری ہے کہ افغان حکومت قطر میں طالبان کے دفتر کی حیثیت کو تسلیم کرے اور افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کو بات چیت سے پہلے یقینی بنائے۔

اس کے علاوہ، اعلامیے میں افغان حکومت اور نیٹو کے مابین طے پانے والے معاہدوں اور بات چیت سے متعلق افغان حکومت کی پالیسیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

افغان حکومت کی طرف سے، افغان طالبان کے اس اعلامیے پر کوئی سرکاری رد عمل تاحال سامنے نہیں آیا۔

تاہم، قطر میں موجود افغان امن کونسل کے رکن، اسد اللہ وفا نے وائس آف امریکہ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں طالبان کے اس اعلامیے پر تفصیلی گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہوئے محض اتنا کہا کہ طالبان کی طرف سے رکھی گئی شرائط پر افغان پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیئے، تاکہ اس دو روزہ بات چیت کی تفصیلات کو یا تو جرگے کے علاوہ افغانستان کے اندر دیگر سیاسی دھڑوں کے ساتھ شیئر کرے۔

اُنھوں نے کہا کہ افغان حکومت، طالبان کے ساتھ بات چیت میں سنجیدہ ہے۔ لیکن، طالبان کو بھی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

افغان امور کے ماہر، میر ویس افغان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بات چیت سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہوئیں اور مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوئے۔

تاہم، بقول اُن کے، افغان حکومت اور طالبان کا ایک چھت کے نیچے آنے سامنے بیٹھنا، ایک مثبت پیش رفت ہے اور یہ کہ اس کو باقاعدہ امن مذاکرات کی جانب پہلا قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

کابل سے ایک افغان عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو بتایا ہے کہ اِن مذاکرات کا دوسرا دو اگلے ہفتے متحدہ عرب امارات میں متوقع ہے۔

تفصیل کے لیے، آڈیو لنک پر کلک کیجیئے:

XS
SM
MD
LG