رسائی کے لنکس

دونوں ممالک نے تواناٰئی، تجارت, اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، افرادی قوت اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی پاکستان کا اپنا دو روزہ مکمل کر کے منگل کو وطن واپس روانہ ہو گئے۔ بطور امیرِ قطر یہ ان کا پہلا دورہ پاکستان تھا اور ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ان کے ہمراہ آیا تھا جس میں کابینہ کے ارکان، اعلیٰ سرکاری عہدیدار اور قطر ائیرویز کے چیئرمین بھی شامل تھے۔

وفود کے ہمراہ ملاقات کے علاوہ پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف اور قطری مہمان کی الگ بھی ملاقات ہوئی جس میں اہم عالمی اور علاقائی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے تواناٰئی، تجارت، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، افرادی قوت اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیرِاعظم ہاؤس میں خطاب کے دوران شیخ تمیم بن حماد الثانی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان 30 کروڑ ڈالر سالانہ تجارت بہت کم ہے اور اس کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا مثبت جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔

اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، سائنس اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے نوجوانوں اور کھیل کے شعبے میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کیے۔

چونتیس سالہ شیخ تمیم بن حماد الثانی 25 جون 2013ء کو قطر کے امیر بنے تھے۔ یاد رہے کہ وہ دنیا کے سب سے کم عمر بادشاہ ہیں۔ امیر بننے سے پہلے وہ متعدد سرکاری عہدوں پر کام کر چکے ہیں اور ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک اہم بات یہ ہے کہ قطر 2022ء میں فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا۔ چار سال بعد منعقد کیا جانے والا فٹ بال ورلڈ کپ کھیلوں کی دنیا کے بڑے مقابلوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی تیاری کے سلسلے میں قطر نے وسیع پیمانے پر تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔

اس تناطر میں امیرِ قطر کے دورے کے دوران پاکستان کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں اور یادداشتوں کی بہت اہمیت ہے۔

دونوں ممالک نے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں میں پاکستانی افرادی قوت کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس وقت ایک لاکھ سے زائد پاکستانی قطر میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں جن کی طرف سے آنے والی ترسیلاتِ زر پاکستانی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ گہرے دوستانہ مراسم ہیں جن میں قطر بھی شامل ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے قطر کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی کئی کوششیں کی ہیں جن میں پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کا اس سال فروری میں دورۂ قطر شامل ہے۔ پاکستان قطر کے ساتھ مائع قدرتی گیس کے ایک معاہدے پر پہلے ہی دستخط کر چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG