رسائی کے لنکس

قطر: شاعر پر لوگوں کو بھڑکانے کا الزام ثابت


تیونس (فائل)

تیونس (فائل)

’تیونیسین جاسمین‘ نامی اُس گیت میں عجمی نے شمال افریقہ کی ریاست میں ہونے والی بغاوت کی حمایت کی تھی، جِس میں اُنھوں نے یہ بات کہی تھی کہ، ’ استحصالی طبقے کی آمرانہ حکمرانی کا سامنا کرنے والے سارے لوگ تیونیسیا جیسے ہی ہیں‘

قطر کی ایک عدالت نے ایک شاعر کو دی جانے والی 15 برس کی سزا کی توثیق کردی ہے، جِن پر حکومت کا تختہ الٹنے کی غرض سے لوگوں کو اکسانے اور امیر کو بے توقیر کرنے کا الزام تھا۔

محمد العجمی کو گذشتہ سال عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم فروری میں داخل کی گئی ایک اپیل پر سنائے گئے فیصلے میں یہ سزا کم کرکے 15سال کردی گئی تھی۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں نے پیر کے روز سنائی جانے والی سزا کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے، عجمی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

عجمی کے خلاف مقدمے کی بنیاد 2010ء میں کی گئی اُن کی شاعری بنی جِس میں سابق امیر، شیخ حماد الثانی پر تنقید کی گئی تھی۔

تاہم، سرگرم کارکنوں کے خیال میں حکام نے اُن کے خلاف یہ چارہ جوئی 2011ء میں لکھے گئے ایک گیت پر کی، جس میں اُنھوں نے آمرانہ حکومت کے بارے میں سخت کلمات کہے تھے۔

’تیونیسین جاسمین‘ نامی اُس گیت میں عجمی نے شمال افریقہ کی ریاست میں ہونے والی بغاوت کی حمایت کی تھی، جِس میں اُنھوں نے یہ بات کہی تھی کہ، ’استحصالی طبقے کی آمرانہ حکمرانی کا سامنا کرنے والے سارے لوگ تیونیسیا جیسے ہی ہیں‘۔

عجمی کے لیے اب قطر کے موجودہ امیر کو رحم کی اپیل کرنے کا راستہ باقی ہے۔
XS
SM
MD
LG