رسائی کے لنکس

وہ لوگ جو با آسانی کسی کی بھی باتوں میں آ جاتے ہیں، جو ہر مروجہ فیشن کے پیچھے چل پڑتے ہیں یا وہ مریض جو کہ دائمی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں اور ڈاکٹروں کے علاج سے مایوس ہو چکے ہوتے ہیں، وہ ان عطائیوں کے زیادہ شکار ہوتے ہیں

مشہور مزاح نگار، مشتاق احمد یوسفی اپنی کتاب ’چراغ تلے‘ میں لکھتے ہیں کہ سنا ہے کہ شائستہ آدمی کی یہ پہچان ہے کہ اگر آپ اس سے کہیں کہ مجھے فلاں بیماری ہے تو وہ کوئی آزمودہ دوا نہ بتائے۔

شائستگی کا یہ سخت معیار صحیح تسلیم کر لیا جائے تو ہمارے ملک میں سوائے ڈاکٹروں کے کوئی اللہ کا بندہ شائستہ کہلانے کا مستحق نہ نکلے گا۔

یقین نہ آئے تو جھوٹ موٹ کسی سے کہہ دیجئے کہ مجھے زکام ہوگیا ہے، پھر دیکھئے کیسے کیسے مجرب نسخے، خاندانی چٹکلے اور فقیری ٹوٹکے آپ کو بتائے جاتے ہیں۔


ماہرین کے مطابق کچھ لوگ دوسروں کو سنے سنائے علاج بتاتے ہیں، کچھ دوسروں کو خود آزمائے ہوئے علاج بتاتے ہیں، کچھ ان غیر روایتی طریقہ علاج کو واقعی صحیح اور سستا سمجھ کر اس کو استعمال کرتے ہیں اور اس کی تشہیر کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنا کاروبار چلانے کے لئے دوسروں کو ایسے علاج تجویز کرتے ہیں کہ جن کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہوتی۔ اور یہ عطائی معالج سائنسی زبان کا غلط استعمال کر کے دوسروں کو بے وقوف بناتے ہیں جس سے لوگوں کا پیسہ برباد ہوتا ہے۔ یوں بیمار حقیقی علاج سے دور رہتے ہیں۔ اور کئی مرتبہ ان عطائیوں کے علاج سے لوگوں کو سنگین سائڈ ایفیکٹس اور پیچیدگیاں ہو جاتی ہیں اور عام سی بات ہے کہ یہ لوگ اپنی جان سے بھی جاتے ہیں۔


امریکی ماہر نفسیات اور نیشنل کونسل اگینسٹ ہیلتھ فراڈ اور کوئیک واچ جیسے اداروں کے ذریعے طب کے شعبے میں فراڈ کی روک تھام کے لئے کام کرنے والے ڈاکٹر اسٹیفن بیرٹ کے مطابق جب کچھ بیماریوں کی علامات میں خود بخود ہی کمی آتی ہے، قدرتی طور پر اس کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے یا کسی بھی دوا کے استعمال سے ملنے والے نفسیاتی فائدے یعنی پلاسیبو ایفکٹ سے مریض بہتر محسوس کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ فائدہ عطائی معالج کی دوا سے ہو رہا ہے۔ اور اسی لئے، ان دواؤں کو سائنسی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہئے۔


ڈاکٹر اسٹیفن بیرٹ کہتے ہیں کہ وہ لوگ جو با آسانی کسی کی بھی باتوں میں آ جاتے ہیں، جو ہر مروجہ فیشن کے پیچھے چل پڑتے ہیں یا وہ مریض جو کہ دائمی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں اور ڈاکٹروں کے علاج مایوس ہو چکے ہوتے ہیں وہ ان عطائیوں کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔


پاکستان میں بچوں کے معالجین کی تنظیم پاکستان پیڈیاٹرک اسوسی ایشن کے سابق سربراہ پروفیسر، ڈاکٹر اقبال میمن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عطائی معالجوں کے غیر سائنسی طریقہٴعلاج اور ادویات سے سب سے زیادہ بچے اور بزرگ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تو وہ عطائی ہیں جو کہ اپنے آپ کو ڈاکٹر کہتے ہیں جو کہ وہ ہوتے نہیں اور دوسرے وہ جو کہ کسی غیر روائتی طریقہ علاج کا ماہر ہونے کا دعوا یٰ کرتے ہیں۔


پروفیسر صاحب کے مطابق بچوں میں تو کئی مرتبہ اس قسم کے علاج سے ان کی موت بھی واقعے ہو جاتی ہے، کیونکہ ایک تو اس غلط علاج کی وجہ سے بچہ صحیح علاج سے محروم رہ جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ ان عطائیوں کو علم نہیں ہوتا کہ بچوں کو مختلف دواؤں کی کتنی مقدار دی جانی چاہئے اور وہ بچوں کو بڑوں کے ڈوز دے دیتے ہیں۔ عطائیوں کے زیر استعمال ان کی اپنی بنائی ہوئی دواؤں کا معیار اور اس میں اجزا کی مقدار چونکہ ایک باقائدہ طریقے سے برقرار نہیں رکھی جاتی تو بچے جو کہ بڑوں کے مقابلے میں نازک ہوتے ہیں وہ ان ادویات کی زیادتی یا ان کے زہریلے اجزاء کا شکار ہوجاتے ہیں۔


ماہرین کی رائے میں ملک سے علاج کے نام پر ہونے والی اس دھوکے بازی کے خاتمے کے لئے ایک طرف تو حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے تو دوسری طرف عوام کو بھی ان دھوکے بازوں سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG