رسائی کے لنکس

ہیٹی میں ہولناک زلزلہ اور پاکستان کی تلخ یادیں

  • شون مارونی

ہیٹی میں ہولناک زلزلے کے بعد کے ہفتوںمیں دنیا بھر سے ہزاروں امدادی کارکن کھانے پینے کی چیزیں تقسیم کرنے اور طبی امداد فراہم کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئے ہیں۔ اقوام متحد ہ کے اندازے کے مطابق اس زلزلے میں دولاکھ افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں۔ پانچ برس قبل پاکستان میں بھی ہولناک زلزلہ آیا تھا اور ملک آج تک اس کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آٹھ اکتوبر 2005ء کی صبح ایک طاقتور زلزلے نے پاکستان کے شمال مشرقی علاقوں میں تباہی مچا دی۔ کشمیر سے لے کر دارالحکومت اسلام آباد اور افغانستان سے ملنے والے سرحد تک کا علاقہ اس کی لپیٹ میں آ گیا۔ پہاڑی علاقوں کو جانے والے بیشتر راستے بند ہو چکے تھے اور45 لاکھ متاثرین میں سے بیشتر تک امداد پہنچانا مشکل ہو گیا تھا۔ بعض دیہات مکمل طور سے تباہ ہو گئے تھے۔

زلزلے کے بعد ہفتوں تک جھٹکے محسوس کیے جاتے رہے ۔ اس سانحے میں تقریباً 73,000 افراد ہلاک ہوئے- زخمی ہونے والوں کی تعداد اس سے دگنی تھی۔ عبد الستار ایدھی مدد کے لیے پہنچ گئے۔

پاکستان میں شاید ہی کوئی ہو جس نے ایدھی کا نام نہ سنا ہو۔ انسانیت کی خدمت خاص طور سے ہنگامی حالات میں امدادی کارروائیوں کی وجہ سے انھوں نے بڑا نام کمایا ہے۔ ایدھی ویلفیئر فاونڈیشن 50 سال سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے۔ خود ایدھی نے اپنے زندگی کے تقریباً 60 سال بے سہارا اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنے میں لگائے ہیں۔ اب ان کی عمر 88 برس ہو چکی ہے لیکن ان کا انسانیت کی خدمت کا جذبہ اب بھی جوان ہے۔ اب وہ دنیا کے دوسرے سرے پر ہیٹی کے زلزلے کے متاثرین کی مدد کے مشن پر روانہ ہونے والے ہیں۔ایدھی نے دس لاکھ ڈالر اور اپنے دو بیٹوں سمیت امدادی کام کرنے والوں کی ایک ٹیم جمع کر لی ہے۔ لیکن کئی ہفتے گذرنے کے بعد بھی ، انہیں ہیٹی جانے کے لیے ویزے نہیں ملے ہیں۔
فاروق احمد خان پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے چیئر مین ہیں۔ 2005 کے زلزلے کے بعد ان کے ادارے نے پاکستان میں امداد اور تعمیر نو کے کام میں انتہائی اہم رول ادا کیا ہے ۔ وہ کہتےہیں کہ بحالی کے کام میں کامیابی کے لیے حکومت کی مکمل حمایت ضروری ہوتی ہے۔ اصول یہ ہے کہ منصوبہ بندی کا سارا کام ایک ادار ے کے تحت ہوتا ہے لیکن اس پر عمل در آمد میں مرکزیت نہیں ہوتی۔ کامیابی کی اولین شرط یہ ہے کہ حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہو۔
ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کی طرح پاکستان کوبھی چار شہر دوسری جگہ بسانے پڑے تھے کیوں کہ یہ عین اس جگہ واقع تھے جہاں سے زلزلے کی ابتدا ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بڑا پیچیدہ اور الجھاد ینے والا کام ہے لیکن انہیں امید ہے کہ اگلے سال تک لوگوں کو دوسری جگہوں پر آباد کرنے کا کام مکمل ہو جائے گا ۔ وہ کہتے ہیں’’ہم نے بڑا لمبا سفر طے کیا ہے اور اب بس تھوڑا سا فاصلہ باقی رہتا ہے ۔ مجموعی طور پر میرے خیال میں تعمیر نو اور بحالی کا کام کامیابی سے مکمل ہوا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کا بھی یہی خیال ہے ۔‘‘
لیکن زلزلے کے پانچ برس بعد بھی اسلام آباد میں اس کے آثار باقی ہیں۔ مارگلہ ٹاور کے فلیٹوں میں تقریباً 150 خاندان رہتے تھے۔ اب یہ پورا رہائشی کمپلیس خالی پڑا ہے اور اس کا ملبہ ان 74 افراد کی یاد دلاتا ہے جو اس رہائشی کمپلیکس کے گرنے سے ہلاک ہوئے تھے۔ اس کمپلیکس کے تین فلیٹ افتخار چودھری کے خاندان کی ملکیت تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دس منزلہ عمارت کے گرنے کی جو سرکاری تفتیش ہوئی اس سے پتا چلا کہ اس کی تعمیر میں نقص تھا۔
سابق لیفٹیننٹ جنرل فاروق احمد خاں کہتے ہیں کہ مارگلہ ٹاورز کے گرنے کے واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی ملک کا کسی قدرتی آفت کے اثرات سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ مارگلہ ٹاورز کا گرنا بڑی شرم ناک بات تھی لیکن سپریم کورٹ نے متاثرین کو مالی ہرجانے کی ادائیگی کا جو حکم دیا تھا اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

عبدالستار ایدھی کہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ ہیٹی میں بحالی میں بہت وقت لگے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ دفتری کارروائی میں تاخیر اور رکاوٹوں اور پاکستان کے اپنے مسائل کے با وجود پاکستان کے لوگ ہر ممکن طریقے سے ہیٹی کے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG