رسائی کے لنکس

مظاہرے کے بعد تین اعلیٰ پولیس افسران کا تبادلہ ،پانچ گرفتار

  • نصیر کاکٹر

Ziarat, Balochistan

Ziarat, Balochistan

کوئٹہ میں پولیس کی جانب سے ایک روز قبل کیے جانے والے احتجاج کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے پولیس کے دو جب کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو اُن کے عہدوں سے ہٹا کر اوایس ڈی بنا دیا ہے جب کہ مظاہرہ کرنے والے لگ بھگ 400 پولیس اہلکاروں میں سے 30 کو معطل کردیاگیا ہے ۔

پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دو افسران سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو گرفتا رکرلیا گیا ہے جن میں پولیس ٹریننگ سنٹر کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور ایک ایس ایچ او شامل ہیں۔

صوبائی دارالحکومت کی پولیس لائن کا کنٹرول فرنٹیئرکور کے حوالے کردیا گیا ہے جب کہ شہر کا نظام بھی ٹریفک پولیس اور صوبے کے لیے نئی تشکیل دی جانے والی فورس بلوچستان کانسٹیبلری نے سنبھال رکھا ہے۔ کوئٹہ کے اہم مقامات پر نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔

واضح رہے کہ سینکٹروں پولیس اہلکاروں نے اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے پیر کے روز گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں زبردستی داخل ہونے کے علاوہ کوئٹہ شہر کی سٹرکوں پر احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی جس سے ٹریفک تقریباً دن بھر معطل رہی۔ مظاہر ہ کرنے والے پولیس اہلکاروں نے سرکاری اسلحے سے فائرنگ بھی کی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کرارہی ہے اور اس میں ملوث یا اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG