رسائی کے لنکس

بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ اور سیاسی شدت پسندی ، رپورٹنگ کا کام مشکل ہوتا جا رہا ہے: سی پی جے

  • حسن سید

گذشتہ 30سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ملک عارف کے پسماندگان میں چار بچے شامل ہیں۔ وہ رواں سال کے دوران پاکستان میں ہلاک ہونے والے دوسرے صحافی ہیں

آزادی صحافت کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری عالمی تنظیوں کمیٹی ٹو پراٹیکٹ جرنلسٹس (سے پی جے) اور رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز(آر ڈبلیوبی) اور پاکستان کی صحافی برادری نے کوئٹہ میں خود کش حملے کے دوران ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کے کیمرے مین کی ہلاکت اور پانچ دوسرے صحافیوں کے زخمی ہونے کے واقعے کو نہایت ہی قابلِ افسوس قرار دیتے ہوئے اِس کی مذمت کی ہے۔

نیو یارک سے جاری ہونے والے ایک بیان میں، کمیٹی ٹو پراٹیکٹ جرنلسٹس کے ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر، باب ڈائٹز نے جان بحق ہونے والے صحافی ملک عارف کے لواحقین اور صحافتی دوستوں کے ساتھ تعزیت، اور زخمی ہونے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

اُن کےبقول، ‘جوں جوں سیاسی اور فرقہ وارانہ شدت پسندی میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں رپورٹنگ خطرناک کام بنتا جا رہا ہے۔’

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے سنگین خطرات کا سامنا ہے ۔ کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں جمعہ کے روز کوریج کے دوران خود کش حملہ آور نے پہلے فائرنگ اور پھر خود کو دھماکے سے اُڑا دیا جس میں سماء ٹی وی کے سینیئر کیمرے مین ملک عارف ہلاک ہو گئے جب کہ سماء ٹی وی ہی کے نور الٰہی بگٹی جیو ٹی وی کے سلمان اشرف ، دنیا ٹی وی کے فرید احمد ، ایکسپریس کے خلیل احمد اور آج ٹی وی کے ملک سہیل شامل ہیں۔

گذشتہ تیس برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ملک عارف کے پسماندگان میں چار بچے شامل ہیں اور وہ اس سال پاکستان میں ہلاک ہونے والے دوسرے صحافی ہیں۔

چینل کے ڈائریکٹر نیوز احتشام الحق نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خطرناک حالات میں رہ کر کام کرنے والے صحافیوں کی سلامتی کے لیے ان کے اداروں کی جانب سے انتظامات کیے جائیں اور انھیں یہ تربیت فراہم کی جائے کہ کس طرح سے جنگ سے متاثرہ علاقوں یا دوسری خطرناک جگہوں پر خود کو محفوظ رکھتے ہوئے کام کرنا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ تمام اداروں میں صحافیوں اور کیمرہ مینوں کی باقائدہ انشورنس کا نظام موجود ہونا چاہیئے تاکہ کسی بھی نقصان کی صورت میں انھیں مناسب امداد فراہم کی جا سکے۔

اسلام آبا د کیمرہ مین ایسوسی ایشن کے صدر ناصر محمود کا کہنا ہے کہ ٹیلی ویژن کے لیے کام کرنے والے کیمرہ مین نہایت مشکل حالات میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اپنا کام سر انجام دیتے ہیں لیکن بہت سے ادارے ایسے ہیں جہاں انشورنس موجود نہیں بلکہ ان کی تنخواہوں میں بھی دو سے تین ماہ کا تعطل ہو رہا ہے۔

کوئٹہ میں بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے دھماکے کی مذمت کی ہے اور لوگوں کو پُرامن رہنے کی تلقین کی ہے۔ اُنھوں نے پولیس کو احکامات جاری کیے ہیں کہ اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG