رسائی کے لنکس

فائرنگ کے مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک

  • ستارکاکڑ

فائرنگ کے مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک

فائرنگ کے مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک

بدھ کے روز کو ئٹہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے دو واقعات میں بلو چستان کانسٹیبلر ی کے ایک سابق افسرسمیت تین افراد ہلاک اور ایک شخص زخمی ہو گیا ۔

پولیس حکام کے مطابق بلو چستان کانسٹیبلر ی کے ریٹائرڈ ڈی ایس پی محمد عثمان بروری کے علاقے اے ون سٹی میں واقع اپنے گھر سے دوپہر کو نکلے تو پہلے سے گھات لگائے نا معلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے محمد عثمان مو قع پر ہلاک ہو گئے واقعہ کے بعد مسلح افراد مو ٹر سائیکل پر فرار ہو گئے ۔

دوسرا واقعہ بھی بروری کے علاقے اختر آباد میں پیش آیا جہاں ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے تین افراد دیوار تعمیر کررہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوا ر نا معلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے اُن میں سے دو افرادکو ہلاک کر دیا جب کہ اُن کا تیسرا ساتھی وارث علی شد ید زخمی ہو گیا ۔ فائرنگ کے بعد مسلح افراد مو قع سے فرار ہو گئے پو لیس حکام نے واقعہ کے بارے میں بتایاکہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے ۔

بروری روڈکے علاقے میں ہی تیسر ا واقعہ پیش آیا جہاں ایف سی کے تر جمان کے مطابق نا معلوم مسلح افراد نے ایف سی کی گاڑی پر دستی بم سے حملہ کیا جس سے چا ر اہلکار زخمی ہو گئے۔ تر جمان کے مطابق ایف سی کے جوانوں کی جوابی فائرنگ سے ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا ۔

واضح رہے کہ کو ئٹہ میں کچھ عر صے سے ٹارگٹ کلنگ یا سیاسی بنیادوں پر قتل کا کو ئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے حکومت کی جانب سے آغاز حقوق بلو چستان اور وفاق اور صوبوں کے درمیان آمدن اور وسائل کی تقسیم یعنی این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حصہ بڑھانے سے بلو چستان کی قوم پرست جماعتیں مطمئن نہیں ہیں جس کے باعث تشدد کے واقعات میں بتدر یج اضافہ ہو رہا ہے ۔

دریں اثناء پولیس حکام نے بتایا ہے کہ کو ئٹہ کے علاقے پشتون آباد میں منگل کی صبح ایک مکان کے اندر بم دھماکے سے ایک شخص ہلاک اور مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا ۔

ملبہ ہٹانے کے بعد پولیس اور علاقے کے لوگوں نے ایک شخص خلیل کی لاش بر آمد کر لی جب کہ مکان میں کو ئی دوسرا شخص مقیم نہیں تھا جس کی دجہ سے کو ئی زخمی نہیں ہوا ۔ مکان سے ایک کالعد م مذہبی تنظیم کا لٹر یچر بھی ملاہے۔ پو لیس کے مطابق مذکورہ شخص نے مکان کر ائے پر لے رکھا تھا اوریہاں بم بنانے کی تیاری کر رہا تھا ۔

مغر بی ممالک کے ذرائع ابلاغ اکثر و بیشتر کو ئٹہ کے نواحی علاقوں پشتو ن آباد ،خر وٹ آباد اور کچلاک میں طالبان شوریٰ کے رہنماؤ ں کی موجودگی کے الزامات عائد کر تے آئے ہیں تاہم پاکستان کی حکومت ،ایف سی اور پولیس حکام ان رپورٹوں کو بے بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔

لیکن پشتو ن آباد میں حالیہ دھماکے اور تباہ شدہ مکان سے کالعد م مذہبی تنظیم کے لٹر یچر کے بر آمد ہو نے سے کو ئٹہ کے شہر یوں میں ایک بار پھر یہ خد شات پیدا ہو گئے ہیں کہ لاہوراور کر اچی میں حالیہ دنوں میں ہونے والے دھماکوں کے بعدتخر یب کاروں نے کہیں کو ئٹہ کا رُخ نہ کیا ہو۔

بلو چستان میں گزشتہ پانچ سالوں سے بلو چ کالعد م قوم پرست تنظیموں کی جانب سے صوبے کے قدرتی وسائل پر مکمل اختیار کے لیے نچلی سطح پر مسلح کارروائیاں کی جارہی ہیں خصوصاً ٹارگٹ کلنگ اور دستی بم کے حملوں کے ذریعے اب تک ساڑھے تین سو زیادہ غیر بلو چوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ سلسلہ تاحا ل جاری ہے ۔

XS
SM
MD
LG