رسائی کے لنکس

کوئٹہ: یونیورسٹی کی بس پر بم حملے میں پانچ ہلاک

  • ستار کاکڑ

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیر کی صبح یونیورسٹی کی ایک بس پر بم حملے میں کم ازکم پانچ افراد ہلاک اور 55 سے زائد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق سمنگلی روڈ پر یہ ریموٹ کنڑول بم ایک کھڑی گاڑی میں نصب تھا اور آئی ٹی یونیورسٹی کی بس جیسے ہی وہاں پہنچی تو اس میں زوردار دھماکا کر دیا گیا۔

دھماکے سے بس پر سوار پانچ طلبا ہلاک ہو گئے جب کہ زخمیوں میں بچے، طالبات اور راہگیر بھی شامل ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

کوئٹہ پولیس کے سربراہ زبیر محمود نے جائے وقوع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے سے بس کے اگلے حصے کو شدید نقصان پہنچا جب کہ حفاظت پر معمور پولیس کی گاڑی بھی اس کی زد میں آ گئی۔

اُنھوں نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والی بس میں 75 سے زائد طلبا و طالبات سوار تھے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس حملے میں 50 کلو گرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

’’اب تک جو اطلاعات ملی ہیں اُن سے یہی پتہ چلتا ہے کہ دھماکے والی جگہ پر کوئی گاڑی کھڑی تھی اور لگتا یہ ہے اب تک کے حالات دیکھ کر کہ ریموٹ کنٹرول کا دھماکا تھا۔‘‘

اعلیٰ پولیس عہدے دار نے کہا امن و امان کی صورت حال کے تناظر میں یونیورسٹی کی بسوں کی حفاظت کے لیے پولیس کے دستے تعینات ہیں اور پیر کی صبح ہونے والے حملے میں چار اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

قدرتی وسائل سے مالا مال اس صوبے میں گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 1,000 سے زائد افراد ہلاک اور 2,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG