رسائی کے لنکس

کوئٹہ میں بم حملے سے پانچ پولیس اہلکار زخمی

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پولیس کے مطابق دیسی ساختہ بم کے دھماکے کے لیے دو کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا اور زخمی ہونے والوں میں تین اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں منگل کی صبح ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم ازکم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق پولیس کے ریپڈ رسپانس گروپ (آر آر جی) کی گشت پر مامور گاڑی کو دیسی ساختہ بم سے بگرا پیڑی کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔

دھماکے سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جب کہ اس پر سوار پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار ندیم احمد نے جائے وقوع پر صحافیوں کو بتایا کہ ریپڈ رسپانس گروپ کے اہلکار روزانہ مختلف علاقوں میں گشت اور امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے نکلتے ہیں اور منگل کی صبح حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی بھی ان ہی اہلکاروں کی تھی۔

"صبح یہ اپنے گشت کے لیے نکلی تو قاسم لائن سے ایک سو میٹر کے فاصلے پر اس پر دیسی ساختہ بم سے حملہ ہوا جس میں دو کلو گرام کے قریب بارودی مواد استعمال کیا گیا۔۔۔اس بزدلانہ کارروائی سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور ان (حملہ آوروں) کا بھی ہم کھوج لگائیں گے اور انھیں بھاگ کر کہیں نہیں جانے دیں گے۔"

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

جنوب مغربی صوبہ بلوچستان ایک دہائی سے زائد عرصے سے شورش پسندی اور دہشت گردی کا شکار رہا ہے لیکن حالیہ برسوں میں یہاں امن و امان کی صورتحال میں بہتری دیکھنے میں آئی تھی۔

تاہم رواں سال کے اوائل سے ایک بار پھر پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان حملوں میں اب تک پولیس سمیت سکیورٹی فورسز اور سرکاری املاک کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG