رسائی کے لنکس

وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ نے کوئٹہ اسپتال کے دورے کے موقع پر زخمیوں کی عیادت بھی کی۔

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ایک بڑے سرکاری اسپتال میں مہلک بم دھماکے کی ملک بھر میں مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

اُدھر فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ میں ایک اجلاس کے بعد ملک بھر میں ’کومبگ آپریشن‘ یا انٹیلی جنس معلومات کی بنیادی پر کارروائیوں کا حکم دیا ہے۔

ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی دہشت گردی کے اس واقعے کی پر زور مذمت کی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے پیر کی شام کوئٹہ پہنچے جب کہ اس سے قبل فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی بلوچستان پہنچ چکے تھے، جہاں اُنھوں نے سلامتی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔

اس اجلاس میں سدرن کمانڈ کی طرف سے جنرل راحیل شریف کو بریفنگ بھی دی گئی، جس میں کہا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں پسپائی کے بعد اب دہشت گردوں کی کارروائیوں کا ہدف صوبہ بلوچستان بنتا جا رہا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک بیان مطابق دہشت گرد صوبہ بلوچستان میں سلامتی کی بہتر ہوتی ہوئی صورت حال کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، خاص طور پر اُن کا ہدف پاکستان چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ ہے۔

بیان کے مطابق فوج کے سربراہ نے ہدایت کی کہ دہشت گردی کے حملے میں ملوث عناصر ملک میں کہیں بھی ہوں، انٹیلی جنس ایجنسیاں اُن کا پیچھا کریں۔

بم دھماکے کے بعد امدادی تنظیم ایدھی فاؤنڈیش کے ایک رضا کار محمد عارف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جب وہ سول اسپتال پہنچے تو ہر طرف انسانی اعضا بکھرے ہوئے تھے۔

وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ نے کوئٹہ اسپتال کے دورے کے موقع پر زخمیوں کی عیادت بھی کی۔ بلوچستان حکومت کی طرف سے اس بم دھماکے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے

XS
SM
MD
LG